The news is by your side.

Advertisement

فاٹا میں انسداد پولیو مہم کا آغاز کل سے ہوگا

باجوڑ : فاٹا میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کل 23 نومبر سے ہوگا جس کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کرلیے گئے ہیں جب کہ محسود بیلٹ میں آئی ڈی پیز کے لیے مہم کا آغاز 28 نومبر سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق فاٹا (فیڈرل ایڈمنسٹریٹو ٹرائبل ایریاز) میں 23 نومبر سے 25 نومبر تک تین روزہ انسداد پولیو مہم پولیٹیکل ایجنٹس، کمشنرز، نیم فوجی اور فوجی دستوں کی سرپرستی اور فراہم کردہ سیکیورٹی میں جاری رہے گی جس کے بعد پولیو کے قطرے پینے سے رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے اور ان کی سرویلنس کا کام جاری رکھا جاۓ گاـ

ذرائع کے مطابق انسداد پولیو مہم میں فاٹا کے 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ 22 ہزار 665 بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے جائیں گے جس کے لیے 4146 ٹیمیں پولیو کے قطرے پلوانے کا کام سرانجام دیں گی، جن میں 3753 موبائل، 292 فکسڈ اور 101 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیںـ

دوسری جانب فاٹا کو دہشت گردوں سے صاف کرنے کے لیے آپریشن ضربِ عضب کے دوران جنوبی وزیرستان ایجنسی کے محسود بیلٹ میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے جو افراد واپس آگئے ہیں ان کے لیے علیحدہ سے انسداد پولیو مہم 28 نومبر 2016 سےشروع کی جائےگی۔

کوآرڈی نیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر فاٹا نے کہا ہے کے”رہ جانے والے بچوں پر توجہ دی جائے گی، کیوں کہ ہر بچے کو ہر بار پولیو قطرے پلوانے سے ہی فاٹا اور پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا حصول ممکن ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ “مجھے یقین ہےکہ پولیٹیکل انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سےانسداد پولیو مہم اپنے اہداف کوحاصل کرنےمیں کامیاب ہو گی”۔

کوآرڈی نیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹرفاٹا کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی واپس آنے والے بےگھر خاندانوں (آئی ڈی پیز) کے بچوں کو پولیو کےقطرے پلوانے پرخصوصی توجہ دی جائےگی۔

یاد رہے کہ رواں سال فاٹا سے اب تک صرف دو پولیو کیسز جنوبی وزیرستان ایجنسی سے رپورٹ ہوئے ہیں اور دونوں پولیو کیسز ضرب عضب آپریشن کے نتیجے میں عارضی طور پر بے گھر افراد اور خاندان (ٹی ڈی پیز) کی حالیہ دنوں میں افغانستان سے واپسی کے موقع پر سامنے آئے تھے۔

رواں سال پاکستان میں کُل پولیو کیسز کی تعداد 18 رہی جو 13 اضلاع سے سامنے آئے (2015 میں پولیو کیسز کی تعداد 49 تھی جو 22 اضلاع سے سامنے آئے)۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پولیو پروگرام قومی ترجیحات کا حصہ ہے اور اس سال پولیو پروگرام اعلی سطح کی کارکردگی کے ذریعے اپنے ہدف کے حصول کے قریب ہے یہی وجہ ہے پولیوپروگرام سال 2016 کے آخر تک پولیو وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی بھر پور کوشش ہو رہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں