The news is by your side.

Advertisement

انسانوں میں کرونا وائرس منتقل کرنے والی چمگادڑ کی کہانی

چمگادڑ وہ حیوان ہے جسے قابلِ ذکر سائنسی محققین اور مستند تحقیقی اداروں نے انسانوں تک کرونا وائرس کی منتقلی کا ذمہ دار بتایا ہے، لیکن یہی چمگادڑ روئے زمین پر نباتات میں پولینیشن (عملِ زیرگی) کا ذریعہ بھی ہے۔

پودوں کی مختلف اقسام اور فصلوں میں یہ عمل ہوا کے ذریعے بھی انجام پاتا ہے، لیکن بے شمار نباتات میں پولینیشن چھوٹے کیڑوں اور بعض جانوروں کی مدد سے ممکن ہو پاتی ہے۔

قدرت نے کوئی شے ناکارہ اور بے مقصد پیدا نہیں‌ کی اور اکثر پھلوں، سبزیوں اور غذائی اجناس کی پیداوار اور ان کا پھلنا پھولنا بھی انہی مخلوقات کے سبب ہے جو عام حالات میں انسان کو نقصان بھی پہنچاسکتی ہیں۔

جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق چمگادڑوں کی ایک ہزار سے زائد اقسام میں سے اکثریت کی خوراک کیڑے مکوڑے، پتنگے، تازہ پھل اور ان کا رس ہوتا ہے۔ یہی جانور ماحول دوست بھی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چمگادڑ کئی پودوں کی پولینیشن میں مدد دیتے ہیں یعنی یہ پھلوں کے بیجوں کو پھیلانے اور ان کا رس چوسنے کے دوران نر پھولوں کو مادہ پھولوں تک منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یوں غذائی زنجیر قائم رہتی ہے۔

پاکستان میں آم اور کیلا عام پھل ہیں اور محققین کے مطابق چمگادڑیں کیلا اور آم جیسے پھلوں کی پولینیشن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کا اپنے باغات میں آنے والی چمگادڑوں کو مارنا قدرت کے نظام میں خلل ڈالنا ہے اور اگر یہ بڑے پیمانے پر ہو گا تو غذائی زنجیر یا نباتاتی چکر پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں