The news is by your side.

Advertisement

آلودہ ماحول ہر سال 17 لاکھ بچوں کی ہلاکت کی وجہ

جنیوا : عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آلودہ ماحول کی وجہ سے ہر سال 17 لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر سال آلودگی سے ہلاک ہونے والے بچوں کی شرح ایک چوتھائی ہے ، آلودہ ماحول یعنی گھر کے اندر اور باہر کی آلودگی، سگریٹ کا دھواں، آلودہ پانی، ناکافی نکاسی آب اور صحت و صفائی کی ابتر سہولیات بچوں کی ہلاکت کی وجہ بنتی ہے۔

p2

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر حاملہ خاتون اس آلودہ ماحول میں رہتی ہے تو اس کا اثر پیدا ہونے والے بچے پر بھی ہوتا ہے، جن سے وزن میں کمی، قبل ازوقت پیدائش اور دیگر نقائص والے بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کےعالمی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ آلودگی سے بھرپور ماحول خصوصاً بچوں کے لیے ہلاکت خیز ہے کیونکہ بچوں کا سانس لینے، اعضا بننے اور امنیاتی نظام بن رہا ہوتا ہے اور آلودگی اسے بری طرح تباہ کرکے بچوں کو موت کے دہانے تک پہنچادیتی ہے۔

آلودہ ہوا اور گندا پانی ان کی موت کی بڑی وجوہ میں سے ایک ہے۔

p1

ایک اندازے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 570.000 بچے ہر سال سانس کی بیماریوں جیسے نمونیا میں مبتلا ہوکر مر جاتے ہیں جبکہ 361000 بچے دوسری بیماریوں جیسے ڈائیریا وغیرہ میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں۔

123

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک ماہ سے 5 سال تک کے بچوں میں موت کی بڑی وجہ ملیریا، ڈائریا اور نمونیہ وغیرہ شامل ہیں اور اگر صفائی اور معیاری ایندھن کا استعمال کیا جائے تو ان اموات کو روکا جاسکتا ہے، سب سے بڑھ کر صاف اور محفوظ پانی سے بھی بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر بچوں کو شروع سے ہی آلودگی سے دور رکھا جائے تو اس سے ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی بقیہ زندگی بھی بہتر گزرتی ہے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں