The news is by your side.

Advertisement

جنرل سلیمانی سے متعلق امریکا نے “جھوٹ” کا اعتراف کر لیا

واشنگٹن: امریکا کا ایرانی القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی سے متعلق پراپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

جنرل سلیمانی کو ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دینے والے امریکی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ایرانی جنرل کب اور کیسے حملہ کرتا۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جنرل سلیمانی کہاں سے اور کیسے حملہ آور ہوسکتا تھا؟ حتمی طور پر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ایرانی جنرل حملے کے جو منصوبے بنا رہا تھا اس کا نشانہ کون بنتا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل سلیمانی ایک سلسلہ وار حملوں کی پلاننگ کررہا تھا مگر کب، کہاں اور کیسے حملہ کرتا، اس بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ ضرور ہے کہ جنرل سلیمانی حقیقی خطرہ تھا اور یہی حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قاسم سلیمانی کی موت سے ایران کو کیا فائدہ ہوا؟

واضح رہے کہ واضح رہے بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے۔

بعد ازاں جنرل سلیمانی کے قتل پر ایران نے امریکا پر جوابی وار کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کئے ، واشنگٹن نے حملوں کی تصدیق کی، ایرانی پاسداران انقلاب نے جاری بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے درجنوں میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں