The news is by your side.

Advertisement

جب کراچی کے ایک شہری کی گاڑی پُرتگال میں خراب ہوئی….

تحریر: عمیر حبیب

دیارِ غیر میں بسنے والے کسی بھی پاکستانی کی طرح ہم نے بھی صرف اپنا وطن ہی نہیں چھوڑا تھا، کئی راحتوں، آسائشوں، سہولیات کو اور سب سے بڑھ کر اپنوں کو چھوڑا اور ان سے بہت دور یہاں پُرتگال آ بسے۔ اس سفر اور نئی دنیا بسانے کے شوق میں ہم نے یقینا بہت کچھ کھویا، مگر حوصلہ نہیں۔ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا، ہمت کی اور آج اپنی لگن اور محنت سے یہاں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان ہو یا پرتگال اور اسی طرح دیگر ممالک ہر جگہ مختلف نوعیت کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرتگال اور پرتگالیوں کے بھی اپنے مسائل اور مشکلات ہیں، لیکن یہاں خاص طور پر کرونا جیسی وبا کے دنوں میں ایک خوش گوار تجربہ ہوا۔

پرتگال کا سوشلسٹ طرز حکومت ہمارے نظامِ حکومت سے بالکل الگ ہے۔ ہمارے وطن پاکستان کا سیاسی نظام اور سماجی ڈھانچا دنیا سے کچھ الگ ہی ہے۔ کراچی کی بات کریں تو اگر کبھی رات گئے سنسنان سڑک پر ہماری گاڑی خراب ہو جائے تو یقین جانیے کسی جن بھوت کا سوچ کر نہیں، ڈاکو اور لٹیرے کے روپ میں ظاہر ہونے والے اپنے ہی جیسے کسی انسان کے ڈر سے ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں، خوف کے مارے پسینے چھوٹ سکتے ہیں۔ اس وقت گھر پر فون لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، بھائی یا کسی دوست کا نمبر ملا کر اس سے مدد کی درخواست کرنا پڑتی ہے، اور ان میں سے کسی کے آنے پر گاڑی کو دھکا لگا کر یا کھینچ کر (Tow) گھر پہنچاتے ہیں، اور پھر اگلے روز گاڑی میکنک کے پاس لے جاؤ۔

کراچی میں رات کے وقت گاڑی سڑک پر خراب ہو جائے تو آپ کو یا تو جان جانے کا ڈر ہوتا ہے یا مال جانے کا، مگر یہاں پرتگال میں گاڑی خراب ہوجائے تو کچھ الگ ہی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ دنوں لزبن میں جب ہم متعدد کوششوں کے باوجود اپنی گاڑی اسٹارٹ کرنے میں ناکام رہے تو مکینک سے رابطہ کیا۔ اس نے ہماری راہ نمائی کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی آپ کی گاڑی خراب ہو جائے تو آپ گاڑی میں بیٹھ کر سب سے پہلے متعلقہ انشورنس کمپنی کو فون کریں، اپنی لوکیشن بتائیں، گاڑی کے خراب ہونے کی وجہ، اور چند ضروری سوالات کے جواب دیں۔ وہ آپ کا نام، مکمل پتا، گاڑی کا نمبر وغیرہ پوچھیں گے، ساتھ ہی قریبی کسی مکینک کا پتا بھی، اس کے بعد گاڑی سے باہر نکل کر پیلی جیکٹ پہن لیں، اور وہ وارنگ سائن بورڈ جو ہر گاڑی میں لازمی ہوتا ہے، گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلہ پر رکھ دیں۔ منٹوں میں مددگار آپ تک پہنچ جائیں گے اور بس باقی کام ان کا۔ اب آپ گاڑی کی طرف سے بے فکر ہوجائیں۔

چند روز بعد چابی آپ کے ہاتھ میں ہو گی اور آپ گاڑی میں بیٹھے سفر کر رہے ہوں گے۔

یہ شہریوں کو سہولت دینے اور ان کے بعض عام مسائل حل کرنے سے متعلق صرف ایک مثال ہے، باقی بہت سی چیزیں ہیں جو یہاں آپ کی زندگی کو پُرسکون بناتی ہیں۔ اگر ایسا کوئی نظام اور سہولت ہمارے ملک کے شہروں میں بھی عام ہوجائے تو کیا بات ہے۔

(بلاگر بسلسلہَ روزگار پرتگال کے شہر لزبن میں مقیم ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں