The news is by your side.

Advertisement

چھوٹا بچہ گھر سے کمانے کیوں نکلا ؟ جان کر آپ بھی آبدیدہ ہوجائیں گے

حیدرآباد : بھارت میں غربت کی شرح خطرناک حد تک ذیادہ ہے اور اس پر ستم یہ کہ کورونا وائرس کے بعد سے لاک ڈاؤن اور کرفیو نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

غریب لوگ سر توڑ کوششوں کے بعد کچھ پیسے کما کر اپنے اہل خانہ کیلئے بمشکل دو روٹی کا بندوبست کرپا رہے ہیں اور اگر ایسے میں گھر کے کسی فرد کو بیماری گھیر لے تو پانی سر سے اوپر ہوجاتا ہے۔

ایسے ہی حالات میں حیدرآباد کا رہائشی کبوتروں کا دانہ فروخت کرنے والا کمسن لڑکا اپنے اہل خانہ کیلئے پیٹ پالنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ 10سالہ سید عزیز ریحان اپنی 12سالہ بہن سکینہ کے علاج اور دوائیوں کے لئے بھی رقم کا انتظام کررہا ہے۔

حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی مین روڈ پر 10سالہ عزیز ریحان صبح 6 بجے تا 8 بجے کبوتروں کا دانہ فروخت کرتا ہے جو اس راستے سے گزرنے والے خرید کر ثواب کی نیت سے کبوتروں کو کھانے کے لئے ڈالتے ہیں۔

لوگ اس دانے کے بدلے کچھ رقم عزیز ریحان کو دیتے ہیں اور وہ رقم اس کی بہن کے لئے ادویات خریدنے میں استعمال ہوتی ہے۔ کمسن خود مختار عزیز ریحان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے شوہر سید لطیف وال پینٹر کا کام کرتے ہیں لاک ڈاؤن کے بعد سے کام بہت کم مل رہا ہے جس کی وجہ سے گھر کا گزر بڑی مشکل سے ہورہا ہے۔

خاتون نے بتایا کہ ان کی بڑی لڑکی کو دماغ کے کینسر کی شکایت ہے جس کی عمر 12 سال ہے اس کا علاج سکندرآباد کے اسپتال میں جاری ہے لڑکی کے علاج کے لئے درکار رقم حاصل کرنے کے لئے کسی اور مانگنے سے بہتر خود اعتمادی کے ذریعہ عزیز ریحان صبح کے اوقات میں کبوتروں کا دانہ فروخت کررہا ہے اور اس کام کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے مدرسہ بھی جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں