The news is by your side.

Advertisement

میاں صاحب سے بڑاچابی والا کھلونا کوئی نہیں: بلاول بھٹو

 راولپنڈی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوٹلی ستیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب سے بڑا چابی والا کھلونا کوئی نہیں ہے‘ انہوں نے کہا کہ میں نے 8 ماہ میں پانچ بڑے اسپتالوں کا افتتاح کیا‘ پنجاب اور خیبرپختونخواہ نے کیا کیا؟۔

پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے راولپنڈی کی تحصیل کوٹلی ستیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف پیپلز پارٹی کے پیچھے چھپنا چاہتے تھے ‘ اسی لیے انہوں نے رضا ربانی کا نام چیئرمین سینیٹ کے لیے لیا ‘ وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس مطلوبہ ووٹ نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 500 ووٹ والے کو جب آپ نے ڈپٹی اسپیکر بنایا تھا تب سب ٹھیک تھا ‘ نوا ز شریف کو بلوچستان کی فتح برداشت نہیں ہورہی۔ ان کے لیےووٹ کا تقدس صرف ان کی جیت کا نام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے اتحادیوں نے بھی ان پر عدم اعتماد کیا ‘ کیا آپ کے اتحادی بھی چابی والے کھلونے بن گئے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ گوادر کے لوگ پانی کو ترسیں گے تو آپ پر عدم اعتماد ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے پاناما کیس کے بعد اداروں پر حملے شروع کیے‘ وہ فسادی ہوسکتے ہیں لیکن انقلابی نہیں ہوسکتے۔ ان کے تمام اقدامات خاندانی مفاد اور جاتی امرا کے لیے ہیں۔ وہ ہر کسی سے پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکلا؟ ، مجھے اس سوال پر ہنسی آتی ہے‘ یقیناً انہیں بھی آتی ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے جلسے میں سوال کیا کہ ’’میاں صاحب! آپ یہاں تک کیسے پہنچے جہاں سے آپ کو نکالا گیا،میاں صاحب آپ کو آمر کی چھتری تلے کیوں ووٹ کا تقدس یاد نہیں آیا‘‘۔’’میاں صاحب بتائیں آئی جےآئی کےوقت ووٹ کا تقدس کہاتھا؟، آصف زرداری کے خلاف کالا کوٹ پہن کر عدالت جاتے ہوئے ووٹ کاتقدس کیوں یادنہیں آیا‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میاں صاحب نےافتخارچوہدری کے کندھےپر سوار ہوکر الیکشن میں دھاندلی کی، پچھلے5سالوں میں پارلیمان کی بےتوقیر پر کیوں ووٹ کا تقدس یاد نہیں آیا۔میاں صاحب آپ نے ووٹ کی حرمت کا کتنا خیال رکھا ہے ، ا س بات کا اندازہ میاں صاحب اوران کے بھائی کردار سے لگایاجاسکتاہے۔ میاں صاحب اور ان کے بھائی بتائیں کتنی بار اسمبلی گئے ۔

پاناما کیس میں ممنون حسین نواز شریف کی معافی قبول نہیں کریںگے، بلاول بھٹو

انہوں نے مشیر ِ خزانہ مفتاح اسماعیل کے اسٹیل مل سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نےپی آئی اے اور اسٹیل مل کی نجکاری کا منصوبہ شروع کررکھاہے، ظلم دیکھیں مشیرخزانہ نےاعلان کیا جو پی آئی اے خریدےگااسے اسٹیل مل مفت دیں گے۔ یہ اعلان ایسا ہے جیسے بائی ون اور گیٹ ون فری ۔مشیر خزانہ سن لیں یہ آپ کی دکان کا مال نہیں جو بیچ رہےہو۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں محنت کش ان اداروں میں کام کرتے ہیں، مشیرخزانہ یاد رکھو میں یہ ادارے بیچنے نہیں دوں گا۔اسٹیل مل کی زمین سندھ حکومت کی ملکیت ہے بیچنے کی اجازت نہیں دیں گے،یہ مفت کا مال نہیں جو اپنے حواریوں کو بیچ دو ، میں آپ کو غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کرنے نہیں دوں گا۔

چیئرمین پی پی پی نے کوٹلی ستیاں کے عوام کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کو پتہ ہے ایئر بلیو وزیراعظم پی آئی اےکےساتھ کیاکررہاہے؟ پی آئی اے کے عالمی روٹس بند اور ایئر بلیو کے روٹس کھولے جارہےہیں ۔پی آئی اے کو برباد کرکے اپنی ایئر بلیو کو فائدہ پہنچایاجارہاہے۔یہ لیڈرنہیں صرف کاروباری ہیں اپنا منافع دیکھتے ہیں،انھیں ملک کی فکر ہے نہ ہی عوام کی پروا ہے۔

پنجاب حکومت پرتنقید


پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے پانچ سال میں صرف ایک نامکمل اسپتال کا افتتاح کیا،کےپی میں بھی ایک یونیورسٹی یا سرکاری اسپتال نہیں بنایا گیا ،میں نے سندھ میں پچھلے8ماہ میں عالمی معیار کے5بڑے اسپتال کا افتتاح کیا جن میں عوام کا مفت علاج ہوتا ہے۔لاہور میٹرو منصوبے کی لاگت بھارت کے مارس مشن سے بھی زیادہ ہے جبکہ اورنج لائن منصوبے کی لاگت چاروں صوبوں کے مجموعی تعلیمی بجٹ سے زیاد ہ ہے۔ ملتان میٹرو منصوبہ انٹرنیشنل اسکینڈل ہے جس پر عوام بھی پریشان ہیں۔

خیبر پختونخواہ پر تنقید


خیبر پختونخواہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب بھی پشاور میں میٹرو بس بنا رہے ہیں ، خان صاحب کرپشن کے خلاف پورے ملک میں شور مچاتے ہیں، خان صاحب اپنے وزیراعلیٰ پر لگے کرپشن چارجز پر خاموش رہتے ہیں۔ نااہل ترین اےٹی ایم مشین اب بھی پی ٹی آئی کا سیکریٹری جنرل ہے ا ورلودھراں میں اسی کے بیٹے کو ٹکٹ دےکرمورثی سیاست پر بھی یوٹرن لےلیا۔

ا ن کا کہنا تھا کہ کےپی کےوسائل ہیلی کاپٹر کے دھویں میں اڑ رہےہیں ۔خان صاحب نے گڈ کرپٹ اور بیڈ کرپٹ متعارف کرایا ہے،جو ان کی چھتری میں آئے وہ پاک ہوگئے جو دور ہیں ان پر الزامات کی بوچھاڑ ہے۔عمران خان سے کہا تھا سیاست سے پہلے سیاست کے اصول سمجھیں ابھی صدر زرداری نے انہیں ایک سبق دیا ہے آگے بھی دیں گے ‘ اگر ابھی نہ سیکھے تو پھر وہ سیاست چھوڑ کرکرکٹ میں واپس چلے جائیں اور وہاں بال ٹمپرنگ کریں۔

اس سے قبل کوٹلی ستیاں کے عوام کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا تھا کہ شہیدبینظیر بھٹو کے جانثاروں کےعلاقے میں آکر خوشی ہورہی ہے۔پیپلزپارٹی کو اس علاقے سے وفادار اور جانثار ساتھی ملے ۔یہ وہ علاقہ ہے جسے شہیدبینظیربھٹو نے بجلی دےکر روشن کیاتھا،کوٹلی ستیاں کو تحصیل کا درجہ اورواٹرسپلائی اسکیم دی تھی ، یہاں سے پیپلزپارٹی اورکوٹلی ستیاں کا پرانا رشتہ ہے جسے نبھانےآیا ہوں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔  

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں