The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کا کردارادا کررہی ہے، فاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی عملی طور پر فرینڈلی اپوزیشن کا کردارادا کر رہی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میں کوآرڈینیشن کمزور ہونے کااعتراف کرنا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، جس میں صحافیوں کو ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج سے پی ٹی آئی،ایم کیو ایم میں باقاعدہ مکالمےکاآغازہوگیا ہے، پی ٹی آئی وفد سےملاقات میں سیاسی صورتحال پربات چیت ہوئی ہے۔

ملاقات کا کریڈٹ اپنے پارلیمانی رہنماؤں کو دیتا ہوں، پی ٹی آئی سے ہمیشہ قومی مسائل پربات کی، پی ٹی آئی،ایم کیوایم نے تعلقات مضبوط کرنےکافیصلہ کیا ہے، دونوں جماعتوں کا نقطہ نظر ایک ہے جو خوش آئند ہے، صاف شفاف الیکشن کیلئےابھی سےتیاری کرنی ہے، پاکستان میں مینڈیٹ تقسیم ہے، کوئی جماعت اکیلی عوام کو مشکلات سے نہیں نکال سکتی۔

فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی عملی طور پر فرینڈلی اپوزیشن کا کرداراداکر رہی ہے، کرپشن اور لوٹ مار پر فرینڈلی اپوزیشن بنی ہوئی ہے، خدشہ ہےفرینڈلی اپوزیشن آئندہ الیکشن ہائی جیک نہ کرلے، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مک مکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے قومی معاملات میں آج تک کوئی بڑا کام نہیں کیا بلکہ شہروں کوبنیادی حقوق سے محروم رکھا، سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کرپشن اور لوٹ مارکو تحفظ دیا جاتا ہے۔

ہمارا مطالبہ سیاسی ہے غیر آئینی نہیں، شاہ محمود قریشی

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی تہہ دل سے ایم کیو ایم کی مشکور ہے، خداگواہ ہے کوئی ذاتی ایجنڈا لےکر یہاں نہیں آئے، ملاقات میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی ایک پیج پرنظر آئیں،۔

 انہوں نے کہا کہ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد مزید پیشرفت ہوگی، اکیلے کچھ نہیں کرسکتے سب کو مل کر چلناہوگا۔ ہمارا مطالبہ سیاسی ہے غیر آئینی اور غیر جمہوری نہیں، ملک کا نظام درست نہیں ہوسکتا جب تک بلدیاتی نظام بہتر نہ ہو۔


مزید پڑھیں: ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کواپوزیشن لیڈربنانے

پرمتفق


ان کا کہنا تھا کہ ہم پر جمہورت کو ڈی ریل کرنے کے الزامات پروپیگنڈا ہے، نہ ہی ہم کسی کےاشارے کے انتظار میں ہیں، اپوزیشن میں کورآرڈینیشن کمزور ہونے کا اعتراف کرنا ہوگا،22اگست کے بعد ایم کیو ایم کیلئے پاکستان زندہ باد کانعرہ لگانا معمولی پیشرفت نہیں۔

اس موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سےاختلافات تھے اور اب بھی ہیں، ہمارا ایم کیو ایم سے سیاسی مقابلہ ہوتا رہے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں