The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی کا انتخابی نشان’’تلوار‘‘دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے پرانے انتخابی نشان’’تلوار‘‘حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، الیکشن کمیشن نے تلوار کے نشان کو انتخابی فہرست میں بحال کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اگلے عام انتخابات میں انتخابی نشان تیر کے بجائے تلوار سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کرادی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے انتخابی نشان تلوار کیلئے درخواست جمع کرادی، مذکورہ درخواست پر کل الیکشن کمیشن میں باقاعدہ سماعت ہوگی۔

یاد رہے کہ تقریباً چالیس سال قبل ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تلوار تھا، پیپلزپارٹی نے1970اور1977میں تلوار کے نشان پر ہی الیکشن لڑا تھا۔

بعد ازاں تلوار کا نشان انتخابی فہرست سے ہی خارج کردیا گیا تھا، اب الیکشن کمیشن نے تلوار کا یہ نشان دوبارہ بحال کردیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد تیر کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑے، تیر پر کئی نعرے اور پارٹی ترانے جیالوں میں بہت مقبول ہوئے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی دیگر بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن شیر، پاکستان تحریک انصاف بلے اور متحدہ قومی موومنٹ پتنگ کے نشان سے ہی الیکشن لڑیں گی۔

اس بار الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کیلئے نشانات کی جو فہرست  تیار کی ہے اس میں سیاسی جماعتوں کے لیے 330 انتخابی نشان رکھے گئے ہیں۔

مذکورہ فہرست میں پہلی مرتبہ انگریزی کے چھ حروف تہجی بھی شامل کیے گئے ہیں، ان چھ حروف تہجی میں اے، بی ، جی، کے، پی اور ایس شامل ہیں، اس کے علاوہ  انتخابی نشانات میں چمچ اور جوتا بھی فہرست کا حصہ ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں