spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

پیپلز پارٹی کا وزارت عظمیٰ کیلیے (ن) لیگ کے امیدوار کو ووٹ دینے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کیلیے اس کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اجلاس میں ملک کی سیاسی اور موجودہ صورتحال پر بات ہوئی، پارٹی کا اصولی فیصلہ یہ ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے، ہمارے پاس وفاق میں حکومت بنانے کامینڈیٹ نہیں ہے۔ خود کو وزیر اعظم کیلیے پیش نہیں کر سکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ گروپ اور (ن) لیگ کے پاس ہم سے زیادہ نمبرز ہیں، پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ پی پی سے ڈائیلاگ نہیں کرے گی، پی ٹی آئی نے ظاہر کر دیا کہ وہ حکومت نہیں بنا سکتی، پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں وزارتیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی وزارت نہیں لیں گے، ملک میں سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی جاری رہی تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوگا، پاکستان کو دہشتگردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے، پیپلز پارٹی نے ایک منشور کے تحت الیکشن میں حصہ لیا، پیپلز پارٹی کے منشور میں ملک سے افراتفری ختم کرنے کا مؤقف بھی شامل تھا، ہماری کوشش ہوگی مستحکم حکومت قائم اور ملک میں سیاسی استحکام آئے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کمیٹی بنا رہے ہیں جو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے، ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان کو اس بحران سے نکالیں، عوام اب مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتے، پیپلز پارٹی کی کمیٹی حکومت سازی کے عمل اور سیاسی استحکام کیلیے کام کرے گی، حکومت سازی کیلیے ووٹ دیں گے مگر حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، (ن) لیگ نے حکومت کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ اور دھاندلی کے حوالے سے اعتراضات ہیں، پیپلز پارٹی کی سی ای سی الیکشن کے حوالے سے شکایات جمع کرے گی، ہم احتجاجاً الیکشن کے نتائج کو قبول کریں گے، الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ کا فورم مسائل کو اجاگر کرنے کیلیے استعمال کریں گے، اعتراضات کے باوجود الیکشن کے نتائج قبول کرتے ہیں۔

Comments

- Advertisement -