The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: بڑی پیش گوئی سامنے آگئی

ریاض: سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پیش گوئی کی ہے کہ 2022 میں مملکت کا بجٹ خسارہ کم ہوکر 52 ارب ریال ہوجائے گا جبکہ محصولات 903 ارب ریال تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں وزیر نے امید ظاہر کی کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں اضافے اور کورونا وائرس کی صورت حال بہتر ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کم خسارے والا بجٹ پیش کرے گا، 2021 کی پہلی ششماہی میں بھی بجٹ خسارہ تیزی سے کم ہوا جو 12 ارب ریال ریکارڈ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2022 میں قومی پیداوار کی شرح 5.7 فیصد متوقع ہے جبکہ قرضوں کا حجم 989 اب ریال ہوسکتا ہے، بجٹ خسارے میں کمی تدریجی طور پر 2023 کے قومی بجٹ سے شروع ہوگی۔

محمد الجدعان نے کہا کہ رواں سال کے بجٹ کی کارکردگی کے نتائج سامنے آرہے ہیں، نجکاری پروگرام کا ہدف سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار میں پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ 2030 تک 40 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد تک پہنچ جائے گا، آئندہ سالوں میں بڑی تعداد میں سعودی شہری مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں گے۔

سعودی وزیرخزانہ نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ 2030 تک 70 فیصد سعودی مکانات کے مالک ہوں، رواں سال پرائیویٹ سیکٹر میں بہتری کی بدولت قومی معشیت کی ترقی کا بھی سبب بنی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2021 رواں کے دوران حقیقی قومی مجموعی پیداوار کی شرح نمو 2.8 فیصد تک ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں