پروٹوکول دو گاڑیوں‌ کا تھا، باقی پیچھا کرتی رہیں: صدر پاکستان کی وضاحت -
The news is by your side.

Advertisement

پروٹوکول دو گاڑیوں‌ کا تھا، باقی پیچھا کرتی رہیں: صدر پاکستان کی وضاحت

پروٹوکول کے لیے حکام سے صرف دو گاڑیاں مانگی تھیں

کراچی: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ  پروٹوکول کے لیے صرف 2 گاڑیاں فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی باقی تمام سرکاری گاڑیاں میرا پیچھا کرتی رہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کراچی آمد کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پروٹوکول کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر صدر پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وضاحت پیش کی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے ٹویٹ کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ میں نے ایئرپورٹ پر موجود حکام کو ہدایت کی تھی کہ پروٹوکول کے لیے  ایک یا دو گاڑیاں اور  سیکیورٹی کے پیش نظر 2 گاڑیاں فراہم کردیں اور لاؤ لشکر دے کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔

صدر پاکستان کہنا تھا کہ ہدایت کے باوجود پروٹوکول کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کی لمبی قطار میرا پیچھا کرتی رہیں، ہمیں اس کو ہر صورت روکنے کی کوشش کرنی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عارف علوی کی 30 گاڑیوں کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری

ایک صارف کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ جس جگہ میں ساری زندگی رہا اب وہاں کے پڑوسیوں کے لیے زحمت نہیں بن سکتا، جب عام آدمی کے لیے پروٹوکول یا سیکیورٹی تکلیف دہ ہو تو ہمیں فرق لانا پڑے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر عارف علوی کراچی پہنچے تھے، صدر پاکستان نے وفاقی دارلحکومت سے کراچی تک بغیر پروٹوکول سفر  کیا اور اپنے بورڈنگ پاس وغیرہ بھی خود ہی حاصل کیے، البتہ آج صبح جب انہوں نے مزار قائد پر حاضری دی تو اُن کے ہمراہ 30 گاڑیوں کا قافلہ تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں