The news is by your side.

Advertisement

صدر ٹرمپ نے عالمی عدالت انصاف کو غیر قانونی قرار دے دیا

واشنگٹن : ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی عدالت انصاف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی میں کسی امریکی، اسرائیلی یا دوسرے اتحادی کے ٹرائل کی کوشش کا فوری اور سخت ردعمل سامنے آئے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فوج داری عدالت کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور دوسری طرف افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی درخواست مسترد کرنے پر عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے افغانستان میں جنگی جرائم سے متعلق درخواست مسترد ہونے کو امریکا کی فتح قرار دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی فوج داری عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم میں امریکی فوجیوں سے پوچھ گچھ کی درخواست مسترد کر کے افغانستان میں امریکی فتح ونصرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ فلسطینیوں کی طرف سے کسی اسرائیلی یا امریکی کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواستوں پر کارروائی کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کا افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے انکار نہ صرف عالمی فتح ہے بلکہ یہ قانون کی بالادستی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اور شہری اعلیٰ قانونی اور اخلاقی قدروں کی پابندی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں : امریکا نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی چیف پراسیکیوٹر کا ویزہ منسوخ کردیا

یاد رہے کہ 5 اپریل کو امریکا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر فاتو بن سودہ کا ویزا منسوخ کر دیا تھا، جس کی تصدیق بن سودہ کے دفتر نے بھی کر دی تھی۔

عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کے ویزے کی منسوخی کو افغانستان میں امریکی فوج کے مبینہ جنگی جرائم کی ممکنہ انکوائری کا ردعمل خیال کیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت فوجداری عدالت نے امریکی فوج یا اس کے اتحادیوں کے خلاف تفتیشی عمل شروع کیا تو اس میں شریک عدالتی اہلکاروں کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اگر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے اپنا رویہ درست نہیں کیا تو اقتصادی پابندیوں سمیت مزید اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں