کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کسی کینال کی منظوری نہیں دی، اس حوالے سے میٹنگ منٹس غلط جاری کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آج ہفتے کو پریس کانفرنس میں کہا کہ کینالوں سے متعلق طاقت ور لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوں، سب لوگوں کو بتا دیا ہے کہ کینالوں کے مخالف رہیں گے، مجھے لگتا ہے طاقت ور لوگوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں، اور اس منصوبے پر جو تیزی سے کام ہونا تھا ہماری وجہ سے رک گیا ہے۔
انھوں نے کہا کوئی بھی منصوبہ جو سندھ کے لیے نقصان دہ ہو وہ نہیں بن سکتا، ہمارے پاس ایسی طاقت موجود ہے، آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ایگری مال کا افتتاح کیا تھا، کسی کینال کا نہیں، اگر اسے اس طرح پیش کیا گیا تو وہ غلط ہے۔
مراد علی شاہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ’’دریائے سندھ میں پانی کی کمی ہوئی ہے، نگراں حکومت میں چولستان آباد کرنے کا فیصلہ ہوا، جنوری میں پنجاب حکومت نے کینال پر پروپوزل بنایا، 17 جنوری 2024 کو معاملہ ارسا میں گیا اور ارسا نے اپروول دی، ایکنک میں چولستان کے نام کے بغیر 6 کینال کا معاملہ آیا تو سندھ کے نمائندے نے اعتراض کیا، اور ارسا کے سرٹیفکیٹ کے خلاف ہم سی سی آئی میں گئے۔‘‘
کینالز کا معاملہ ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں، پانی کا معاملہ ہمارا جینا مرنا ہے، بلاول بھٹو
انھوں نے مزید بتایا ’’صدر آصف زرداری کی زیر صدارت ایک میٹنگ ہوئی، زرداری کو کہا گیا آپ کو ایری گیشن پر بریفنگ دیں گے، میٹنگ میں کہا گیا ایری گیشن کے لیے ایڈیشنل زمین آباد کرنا چاہتے ہیں، صدر آصف زرداری نے کہا اچھی بات ہے، اس پر صوبوں سے بات کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’تاہم اس میٹنگ کے جو منٹس جاری کیے گئے وہ غلط تھے، صدر آصف زرداری نے میٹنگ میں کسی کینال کی منظوری نہیں دی، صدر کی زیرصدارت میٹنگ کو بہانا بنا کر کینال کی منظوری دی گئی، ان کی میٹنگ تو 4 لوگوں کے سامنے بند کمرے میں ہوئی، صدر زرداری کے پاس کینالز کی منظوری دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔‘‘
مراد علی شاہ نے کہا ’’دریائے سندھ میں پانی کی کمی کا مکمل ریکارڈ ہمارے پاس ہے، سندھ کا ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ بھی متحرک ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کوئی کچھ بھی بنا لے، سی سی آئی میں معاملہ آئے بغیر اس پر یہ کچھ نہیں کر سکتے، صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کینالز پر اعتراض ہے، لیکن پروپیگنڈا کیا گیا کہ کینالز بنانے کے معاملے میں سندھ حکومت شامل ہے، جب سمجھیں گے باقی چیزیں کام نہیں کر رہیں تو طاقت کا مظاہرہ کریں گے، کینالز کا معاملہ ہمارے لیے جینے مرنے کا ہے۔‘‘
انھوں نے کہا پیپلز پارٹی کے بغیر وفاقی حکومت نہیں چل سکتی، جیسے کالا باغ ڈیم پورے ملک کے لیے نقصان دہ تھا کینالز بھی نقصان دہ ہیں، 3 صوبے اختلاف کرتے ہیں تو کالا باغ ڈیم کی طرح یہ بھی مسترد ہو جائے گا، ہم نے ایکنک میں حیدرآباد سکھر موٹر وے نہ بننے پر اعتراض کیا، ہم نے مؤقف اپنایا کہ پہلے حیدرآباد سکھر موٹر وے بننا چاہیے، یہ ملک کی لائف لائن ہے پہلے یہ بننا چاہیے۔