The news is by your side.

Advertisement

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر

بیجنگ:چین اور ویٹی کن سٹی کے درمیان مفاہمت کو بڑھانے کی غرض سے ایک معاہدے کے تحت پوپ اور بیجنگ کی مشترکہ منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چینی کیتھولک پادری کا تقرر کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چین میں ایک کروڑ 20 لاکھ کیتھولک افراد حکومت کے تحت چلنے والی ایسوسی ایشن اور ویٹی کن سٹی سے ہمدردی رکھنے والے انڈر گراﺅنڈ چرچ میں تقسیم ہیں،رپورٹ کے مطابق حکومت کی سرپرستی میں ایسوسی ایشن پادری کا انتخاب حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کرتی تھی۔

چین اور ویٹی کن کے درمیان طے پانے والے شرائط کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ برس ستمبر میں طے پاگیا تھا تاہم پادری کی تقرری کے حوالے سے دونوں جانب سے اب اعلان کیا گیا ۔

سرکاری چرچ چائینز کیھتولک پیٹریاٹرک ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ یاﺅ شن کو شمالی چین کے انر منگولیا آٹونومس ریجن میں النقاب شہر کے پادری کے طور مقرر کردیا گیا ہے۔

چین کے قوانین کے مطابق کسی بھی مبلغ یا پادری کو خود رجسٹر کروانا اور ملک کے سرکاری چرچ سے خود منسلک کرنا ضروری ہے۔

ویٹی کن سٹی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پادری انتونیو یاﺅ شن کو مرکز میں مقدس اختیار بھی حاصل ہوگیا ہے،بیان کے مطابق چین اور ہولی سی کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کے فریم ورک کے تحت پہلی دفعہ یہ مرکز کا قیام عمل میں لا گیا ہے کیونکہ 1951 سے ان کے سفارتی تعلقات معطل تھے۔

اس سے قبل تعلقات کی بحالی کی کوششوں پر چین کا موقف تھا کہ ویٹی کن سٹی پہلے تائیوان کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے اور چین کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔

واضح رہے ویٹی کن سٹی ان 17 ممالک میں شامل ہے جس نے تائیوان کو ایک ملک کی حیثیت سے قبول کر رکھا ہے لیکن چین اس کا مخالف ہے، تاہم موجودہ پوپ فرانسس جب 2013 میں منصب پر فائز ہوئے تھے تو اس کے بعد چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پادری کی تقرری کے حوالے سے چینی سرکاری اخبار کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ چین میں پادریوں کی کمی ہے اور 98 علاقوں میں سے ایک تہائی کے قریب علاقوں میں کوئی پادری نہیں ہے اور کئی پادری ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔

ریاستی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک اور پادری کی بھی تقرری طے تھی لیکن سرکاری چرچ نے اس حوالے سے باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق پوپ فرانسس نے حکام کی جانب سے معاہدے کو چرچ کے باہر عبادت گزاروں کے خلاف کریک ڈاﺅن کے لیے استعمال کرنے کے خدشات کے باوجود گزشتہ برس طے پانے والے معاہدے کے تحت چین کی جانب سے تعینات کیے گئے 7 پادریوں کو بھی تسلیم کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس جب معاہدہ طے پارہا تھا تو بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کے ساتھ اعتراضات کیے گئے تھے۔ہانگ کانگ کے پاردی جوزف زین نے کہا تھا کہ اس وقت طے پانے والا یہ معاہدہ چین میں حقیقی چرچ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں