The news is by your side.

Advertisement

برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے سے حقائق نہیں چھپ سکتے: برطانوی وزیر اعظم

لندن: برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے 23 برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے سے حقائق تبدیل نہیں کیے جاسکتے، برطانوی سرزمین پر دو افراد پر قاتلانہ حملے کی روسی ریاست ہی ذمہ دار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی حکمراں جماعت کنزر ویٹو پارٹی کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا، گذشتہ دنوں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے23 سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی حکومت کے اس اقدام کے نتیجے میں روس نے بھی رد عمل میں اپنی سرزمین سے 23 برطانوی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد روس اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔

برطانیہ نے 23 روسی سفارت کاروں کو ملک بدرکرنے کا حکم جاری کر دیا

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے جاری تنازعات سے متعلق کہا ہے کہ روس نے برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس سے سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو قتل کرنے سے متعلق حقائق تبدیل اور نہ ہی چھپائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس بین الا قوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس کے خلاف ہم مزید اقدامات کے بارے میں آئندہ دنوں میں فیصلہ کریں گے، برطانوی سرزمین پر دو افراد پر قاتلانہ حملے کی روسی ریاست ہی ذمہ دار ہے اور اس کا کوئی متبادل نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

روس کا برطانیہ کے 23 سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو روسی حکومت کی جانب سے حملوں کے درعمل میں کوئی رعایت نہیں برتیں گے، دنیا بھر سے ہمارے اتحادی ممالک کی جانب سے ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں برطانیہ میں سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کا براہ راست ذمہ دار برطانوی حکومت کی جانب روس کو ٹھرایا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں