The news is by your side.

Advertisement

ہیری میگھن انٹرویو : شہزادہ ولیم بھی میدان میں آگئے

برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مرکل کی جانب سے شاہی خاندان پر نسل پرستی کے الزامات کے بعد شہزادہ ولیم برطانوی شاہی خاندان کے دفاع میں میدان میں آگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کو شہزادہ ولیم نے مشرقی لندن میں واقع ایک اسکول کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خاندان نسل پرست نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتوار کو امریکہ میں انٹرویو نشر ہونے کے بعد سے ابھی تک ان کی شہزادہ ہیری سے بات نہیں ہوئی ہے۔ میں ابھی تک ان سے بات نہیں کرسکا ہوں لیکن میں کروں گا۔

علاوہ ازیں شہزادہ ہیری اور میگھن کے الزامات کے بعد ہر کوئی ملکہ الزبتھ کے بیان کا شدت سے انتظار کر رہا تھا اور بالآخر منگل کو انہوں نے اپنی خاموشی توڑی۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ملکہ الزبتھ، شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کو درپیش مشکلات پر افسردہ ہیں اور شاہی خاندان پر نسل پرستی کے الزامات کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ بکنگھم پیلس جوڑے کے ان الزامات کا بھی جائزہ لے رہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ شاہی خاندان کے ایک رکن نے شہزادہ ہیری سے ان کے بیٹے کی پیدائش سے پہلے یہ جاننا چاہا تھا کہ ان کے بچے کی ر نگت کتنی سانولی ہوگی۔

شہزادہ چارلس کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم منگل کو انہیں لندن میں ایک نائجیرین مسیحی چرچ کا دورہ کرتے دیکھا گیا جہاں کے پادری سیاہ فام افراد کو ویکسین لگوانے کی مہم چلا رہے ہیں۔

برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مرکل نے گزشتہ دنوں معروف امریکی ٹی وی میزبان اوپرا ونفری کو دو گھنٹے کا طویل انٹرویو دیا تھا۔

شاہی خاندان سے ایک سال قبل علیحدگی کے بعد اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں میگھن مرکل نے کہا کہ انہیں شاہی خاندان کی جانب سے تحفظ نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہی خاندان کو یہاں تک اعتراض تھا کہ ہمارے بچے کی رنگت کالی ہوگی۔ بچے کی پیدائش کے بعد بھی شاہی خاندان کی تصویر کھنچوانے کے بارے میں پوچھا تک نہیں گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں