The news is by your side.

Advertisement

شہزادی نیلوفر کا تذکرہ جنھیں حیدرآباد کا کوہِ نور کہا جاتا تھا

شہزادی نیلوفر کی ایک ملازمہ کی موت زچگی کے دوران طبّی سہولیات کی کمی کے سبب ہوئی تھی۔ یہ ان کی پسندیدہ ملازمہ تھی جس کی موت کی خبر سن کر شہزادی کو شدید صدمہ پہنچا تھا۔

اس افسوس ناک واقعے کے بعد شہزادی نیلوفر نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ زچگی کے دوران سہولیات کی کمی یا پیچیدگی کی صورت میں مناسب اور ضروری سامان کی عدم دست یابی کی وجہ سے کسی بھی حاملہ عورت یا اس کے بچّہ کی زندگی خطرے سے دوچار نہ ہو۔

شہزادی نیلوفر فرحت بیگم صاحبہ کی والدہ ترکی کے حکم ران خاندان کی فرد تھیں۔ نیلوفر سلطان عبدالمجید خان کی بھانجی اور سلطان مراد خان مرحوم کی پوتی تھیں۔ شہزادی نے 4 جنوری 1916 کو استنبول کے ایک محل میں آنکھ کھولی۔ دو سال کی عمر میں اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہوگئیں۔ اس زمانے میں مرفّہ الحال ریاست حیدرآباد دکن کے سلطان میر عثمان علی خان اسلامی دنیا میں اپنی سخاوت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ وہ دنیا کے امیر ترین شخص تھے جس نے مقاماتِ مقدسہ کی تزئین و آرائش، تعمیر و مرمّت کے لیے ذاتی دولت بے دریغ خرچ کی۔ نیلوفر کی شادی میر عثمان علی خان کے صاحب زادے سے ہوئی تھی۔

نیلوفر نے اپنے سسر اور نظامِ دکن میر عثمان علی خان کو اپنی خادمہ کی وفات کی خبر دی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح زچگی کے دوران عورتوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور نامناسب طبّی سہولیات کی وجہ سے دکن میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے، جس پر ان کی خواہش ہے کہ کام کیا جانا چاہیے، اس موقع پر شہزادی نے جب جدید اسپتال قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو حضور نظام نے انھیں اجازت دی اور ہر قسم کے تعاون و امداد کا وعدہ کیا، اسی کوشش کے نتیجے میں شہزادی نیلوفر کے نام سے اسپتال کا قیام 1949 میں ممکن ہوا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شہزادی نیلوفر خود لاولد تھیں۔

1931ء میں شہزادی کا عقد شہزادہ والا شان نواب معظم جاہ بہادر سے ہوا تھا اور 21 سال بعد علیحدگی ہوگئی تھی۔ رخصتی کے بعد شہزادی نیلوفر حیدرآباد دکن آئیں اور یہاں‌ خواتین کی ترقی اور بہبود کے لیے کئی کام کیے جن میں عورتوں کی صحّت، علاج معالجہ اور بچّوں کی نگہداشت کے لیے مراکز کا قیام اور عملہ و سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہیں۔

شہزادی نیلوفر 12 جون 1989 کو پیرس میں‌ وفات پاگئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں