صدارتی انتخاب کے لئے بیلٹ پپیرز کی چھپائی کی تیاریاں مکمل
The news is by your side.

Advertisement

صدارتی انتخاب کے لئے بیلٹ پپیرز کی چھپائی کی تیاریاں مکمل

اسلام آباد: صدارتی انتخاب کے لئے بیلٹ پپیرز  کی چھپائی کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے ، بیلٹ پپیرز سفید رنگ کےہوں گے،چار ستمبر کو ڈاکٹر عارف علوی، اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کی کے لئے بیلٹ پپیرز چھپائی کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے، انتخاب کیلئے 850 بیلٹ پیپرزچھاپے جائیں گے، بیلٹ پپیرز سفید رنگ کے ہوں گے۔

عام انتخابات کی طرح صدارتی انتخاب کے لئے واٹر مارک بیلٹ پپیرز کا استعمال کیا جائے گا،ووٹرز پنسل سے من پسند امیدوار کو ٹک کریں گے۔

الیکشن کمیشن بیلٹ پیپرز چھپنے کے بعد پولنگ بیگز پریذائیڈنگ افسر کو بھیجے گا، قومی اورچاروں صوبائی اسمبلی کوپولنگ اسٹیشن کادرجہ حاصل ہوگا۔

خیال رہے ملک کے تیرہویں صدرمملکت کے انتخاب کے لیے پولنگ 4 ستمبرکو ہوگی اور سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پرمشتمل الیکٹورل کالج نئے صدر کا انتخاب کرے گا۔

صدراتی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔

گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے صدارتی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی تھی، جس کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی، اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

ملک بھر سے بارہ امیدواروں میں سے چار کے کاغذات نامزدگی منظورکیے گئے تھے، مولانا فضل الرحمان کے کورنگ امیدوار امیر مقام صدارتی دستبردار ہوگئے۔

صدارتی الیکشن کے قواعد کے مطابق کاغذات نامزدگی واپس نہ لینے والے امیدواروں کے نام بیلٹ پیپر پر چھاپے جائیں گے اپوزیشن کی تقسیم سے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی فتح کےامکانات بڑھ گئے ہیں۔

واضح رہے صدر ممنون حسین کی آئینی مدت 9 ستمبر 2018 کو پوری ہورہی ہے ، صدر کی آئینی مدت پوری ہونے سے 30دن قبل انتخابات کرانے ہوتے ہیں۔

صدر کا انتخاب

صدر مملکت کا انتخاب قومی اسمبلی،چاروں صوبائی اسمبلیوں اورسینٹ کےارکان کریں گے، صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان ،سینٹ و قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری سر انجام دیں گے۔

خالی نشستیں چھوڑکر قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تعداد سات سوچھے ہے، قومی اسمبلی، سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر ممبر کا ووٹ ایک ووٹ تصور ہوگا۔

سب سے چھوٹی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد پینسٹھ ہے، اس تناسب سے دیگر صوبائی اسمبلیوں میں ارکان کے ووٹ کو تقسیم کیا جائے گا، اس فارمولے کے تحت پنجاب کے پانچ اعشاریہ سات ممبران ، سندھ اسمبلی کے دواعشاریہ اٹھاون ممبران اور خیبر پختونخواہ کے ایک اعشاریہ نوممبران اسمبلی کا ایک ووٹ شمار ہوگا۔

قومی اسمبلی کے 342، سینیٹ کے 104 اور چار صوبائی اسمبلیوں کے 65×4 ارکان کا مجموعہ 706 نکلتا ہے جو کہ الیکٹورل کالج کا مجموعی نمبر ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں