The news is by your side.

Advertisement

پرتھوی راج کپور: تھیٹر سے فلم تک فن، تہذیب اور روایت کا نام

پرتھوی راج کپور نے اسٹیج سے فلم تک طویل سفر طے کیا تھا۔ فلم اور تھیٹر سے ان کی وابستگی جذباتی تھی۔ وہ ان فن کاروں میں‌ سے تھے جنھوں نے محنت اور لگن سے کام کیا۔ تھیٹر سے ان کا پیار اور لگاؤ ایسا تھا کہ اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کمایا، اسے تھیٹر کو قائم اور زندہ رکھنے پر لگا دیا۔ فنونِ لطیفہ سے گہرا شغف تھا اور ادب، موسیقی، ڈراما، مصوّری غرض کہ ہر موضوع میں دل چسپی تھی۔ 29 مئی 1971ء کو پرتھوی راج کپور نے زندگی کی بانہوں میں آخری سانس لی تھی۔

1966ء میں فلم “مغلِ اعظم” میں شہنشاہِ ہند کا کردار پرتھوی راج کپور نے اس طرح نبھایا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہر طرف اس فلم کی دھوم مچی ہوئی تھی اور پرتھوی راج کپور کی شہنشاہِ ہند کے روپ میں‌ گرج دار آواز اور بارعب انداز شائقین کے لیے سحر انگیز ثابت ہوا وہ کردار ان کی بھاری بھر کم شخصیت اور جان دار مکالموں کی وجہ امر ہوگیا۔

پرتھوی راج کپور نے متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر لائل پور کے نواحی علاقے سمندری میں 1906 کو آنکھ کھولی تھی۔ وہ پشاور میں‌ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فلموں میں‌ کام کرنے کی غرض سے 1928 میں ممبئی چلے گئے اور کام یاب رہے۔ اس سے قبل انھوں نے تھیٹر کے شوق میں اپنے گروپ کے ساتھ شہر شہر دیکھا، گھومے پھرے اور اپنی اداکاری سے حاضرین کو محظوظ کیا، خاموش فلموں کا زمانہ آیا تو یہاں بھی اپنے فنِ اداکاری کے جوہر دکھائے اور خوب داد سمیٹی۔

ان کے والد دیوان بشیشور ناتھ کپور انڈین امپیریئل پولیس میں افسر تھے اور دادا کیشوومل کپور سمندری کے تحصیلدار تھے، تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا اور آٹھ سال کی عمر میں پہلی بار انھوں نے اسکول کی سطح پر ایک ڈرامے میں حصہ لیا تھا۔ یوں ان کا فنی سفر کم عمری میں شروع ہوا، 1944 میں انھوں نے اپنا تھیٹر گروپ قائم کیا جسے بعد میں بند کرنا پڑا۔ لیکن تھیٹر کے ذریعہ انھوں نے فلمی دنیا کو کئی بڑے اور اچھے فن کار ضرور دیے جن میں پریم ناتھ، سجن، حسرتؔ جے پوری، شنکر، جے کشن وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ کپور خاندان کو بالی وڈ کا سب سے معزز خاندان کہا جاتا ہے۔ اور اسی پرتھوی راج کپور نے بھارتی فلم انڈسٹری کو راج کپور، شمی کپور اور ششی کپور جیسے اداکار دیے تھے۔

فلم ساز کے آصف کی فلم’مغلِ اعظم‘ میں پرتھوی راج کپور اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کی انتہا کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں۔ شائقین ہی نہیں‌ اس زمانے کے فلمی ناقدین نے بھی اکبرِ اعظم کے کردار میں ان کے کام کو خوب سراہا۔ وہ اپنی آواز ہی نہیں‌ اپنے ہاتھوں اور چہرے کے تاثرات سے کسی بھی منظر میں‌ روح پھونک دیتے تھے۔ اس فلم کے لیے معاوضہ اور اس حوالے سے فلم ساز سے بات چیت بھی مشہور ہے کیوں کہ کے آصف نے اس فلم پر خطیر رقم خرچ کی تھی اور دوسری طرف پرتھوی راج کپور جیسا اداکار تھا اور یہ سب لوگ تہذیب و شائستگی، اور اپنی مروت کے لیے بھی مشہور تھے۔ اس بارے میں فلمی وقائع نگاروں نے تفصیل سے لکھا ہے۔

اس فلم کے بعد وہ سخت علیل ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے راج کمار، زندگی، جانور، یہ رات پھر نہ آئے گی، تین بہو رانیاں، انصاف کا مندر، ایک ننھی سی لڑکی تھی وہ فلمیں ہیں جس میں پرتھوی راج نے کمال اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ پدم بھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور کئی ایوارڈز اپنے نام کرنے والے پرتھوی راج کپور نے زندگی کا ہر دن کچھ نہ کچھ سیکھتے ہوئے گزارا۔ وہ متعدد زبانیں جانتے تھے، مذہبی کتابیں پڑھتے اور ان سے حوالے دے کر لوگوں کو نصیحت اور اچھے کاموں کی تلقین کرتے۔ پرتھوی راج کپور کو ہندوستان کی تہذیب کا علم بردار بھی کہا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں