اڈیالہ جیل میں حنیف عباسی کی تصویر سے متعلق تحقیقات مکمل، چھوٹے اہلکار قصوروار قرار
The news is by your side.

Advertisement

اڈیالہ جیل میں حنیف عباسی کی تصویر سے متعلق تحقیقات مکمل، چھوٹے اہلکار قصور وار قرار

راولپنڈی : مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی اڈیالہ جیل کے جیل کمرے میں موجودگی کی تحقیقات مکمل کرلی گئی، کمیٹی نے چھوٹے اہلکاروں پر سارا ملبہ ڈال دیا اور تصویر میں نظرآنے والے سپریٹنڈنٹ سعید کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حنیف عباسی کی تصویر سے متعلق تحقیقات مکمل کرلی ہیں، جس میں سارا ملبہ چھوٹے اہلکاروں پر ڈال دیا گیا ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے پچاس سے زائد اہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کردی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے آئی جی جیل خانہ جات کو بے گناہ قرار دے دیا ہے اور تصویر میں نظرآنے والے سپرنٹنڈنٹ سعید کیخلاف بھی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اعلیٰ حکام سے متعلق ایک لفظ تحریرنہیں کیا، جیل معاملات کی تحقیقات کا اختیار ہوم سیکریٹری پنجاب کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں : جیلر کے کمرے میں حنیف عباسی کی موجودگی، وزیراعلیٰ کا نوٹس، تحقیقات کا حکم

یاد رہے 19 ستمبر کو نواز شریف کی رہائی کے وقت جیل کے کمرے میں لی گئی تصویر میں حنیف عباسی موجود تھے، تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک شوکت فیروز اور اے آئی جی ملک سرفراز نواز پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

بعدازاں انکوائری کمیٹی کی تجویز پر حنیف عباسی کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل منتقل کردیا گیا تھا۔

وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی سزایافتہ مجرم ہیں اُن کا جیلر کے کمرے میں موجود ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے، ملزم اور دیگر لیگی قائدین سے متعلق پہلے بھی شکایات موصول ہوئیں۔

فیاض الحسن کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کےانتقامی کارروائی کےحق میں نہیں مگر سرکاری اداروں کو قانون کے مطابق چلنا چاہیے، سپرٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی کرنا میرا اختیار نہیں بطور وزیراطلاعات واقعے کی تفصیلات طلب کیں۔

خیال رہے لیگی رہنما حنیف عباسی ایفیڈرین کوٹہ کیس میں عمر قید کی سزاکاٹ رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں