اتوار, اپریل 6, 2025
اشتہار

دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا منصوبہ کیا ہے؟ ماہر آبیات نصیر میمن نے اصل حقائق بتادیے

اشتہار

حیرت انگیز

دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا منصوبہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان کافی حد تک تنازع کی صورت اختیار کرگیا ہے۔

پہلے صدر آصف زرداری نے اس پر تفصیلی گفتگو کی اور اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے پر اعتراضات اٹھائے، مذکورہ منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ 6 نہریں کہاں سے نکالی جائیں گی اور اس پر اہلیان سندھ کیوں معترض ہیں؟ معاملہ آخر ہے کیا اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں ماہر آبیات نصیر میمن نے ہوشربا حقائق بیان کیے۔

انہوں نے بتایا کہ چولستان صرف ایک کینال کا نام نہیں ہے یہ ایک بہت بڑی اسکیم ہے، اس کے ایک حصے کو گریٹر اور دوسرے کو اسمالر چولستان کہا جاتا ہےاور اس وقت صرف اسمالر چولستان کے پہلے فیز کی بات ہورہی ہے۔

نصیر میمن نے بتایا کہ ان دونوں فیزوں کو ملایا جائے تو 12 لاکھ ایکڑ زمین بنتی ہے۔ گرین پاکستان منصوبے کے تحت چار سے پانچ ملین ایکڑ پر کاشت کی جائے گی، منصوبے کے مطابق اس کیلیے چناب اور جہلم سے 5 ملین فٹ پانی کو موڑ کر ستلج تک لانا ہے اور آگے بھیجنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے لوگوں کو تشویش اس بات کی ہے کہ ستلج کو تو ہم نے 1960 میں بھارت کے حوالے کردیا تھا اور جب ہم جہلم اور چناب کے پانی کو بھی موڑ دیں گے تو وہاں پہلے ہی اتنا پانی نہیں ہوتا اور وہاں کا پانی بھی پہلے سے طے شدہ ہے۔

ماہر آبی امور کا کہنا ہے کہ پچھلے 25 سال سے ارسا ہر سال اپریل میں پانی کی قلت کا اعلان کرتا ہے، اور پنجاب میں بھی ہر سال پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ پانی کا شارٹ فال ہے۔

اگر اس میں سے بھی 5 ملین ایکڑ فٹ پانی نکال لیا جائے تو پھر پنجاب کے لوگ کیا کریں گے؟ جب منگلا ڈیم سے پانی نکالیں گے تو اس سے بھی شارٹ فال پیدا ہوگا، لہٰذا سندھ کا خدشہ بھی یہی ہے کہ انڈس میں جو دو لنک کینالز ہیں تو پنجاب کے پانی کی کمی کو ان کینالز  سے پورا کیا جائے گا۔

اس لیے پانی کو جہاں سے بھی موڑا جائے گا وہ پانی سندھ کا ہی جائے گا چاہے وہ کسی بھی راستے سے جائے، اسی لیے سندھ کو اس پر اعتراض ہے۔

پنجاب میں پانی کی قلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نصیر میمن نے بتایا کہ اس صورتحال سے پنجاب کے آبادگاروں میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے، آبادگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی پہلے سے طے شدہ ہے تو کس جگہ کا پانی روکا جائے گا جس سے چولستان کی آبیاری کی جائے گی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں ہر سطح پر اور شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مسئلے پر پرامن اور شدید احتجاج کررہے ہیں لوگ اتنے سادہ نہیں ہیں کہ ایسے ہی کسی کے کہنے پر احتجاج کرنے نکل آئیں اور اسی لیے یہاں پر شدید اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں