The news is by your side.

Advertisement

مخلتلف ممالک میں کرونا سے بچاؤ کیلئے تجرباتی طور پر مخصوص دوا کا استعمال

ماسکو : کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تاحال کوئی ایسی ویکسین نہیں بن پائی اور نہ ہی پہلے سے موجود ادویات کی مدد سے اس وبا کے علاج کیلئے کوئی ٹھوس شواہد سامنے آسکے ہیں۔

اس حوالے سے روس نے انفلوائنزا کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا فیویپیراویر کو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے علاج کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس دوا کی پہلی کھیپ رواں ہفتے روس پہنچ رہی ہے جس کے بعد اس کی باقاعدہ آزمائش شروع کی جائے گی۔ یہ وہی دوا ہے جسے چین نے بہت زیادہ محفوظ ہونے کے ساتھ کرونا مریض کے علاج میں واضح طور پر مؤثر قرار دیا تھا۔

چین میں اس دوا کی آزمائش فروری میں شروع ہوئی تھی اور 15 مارچ کو اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی گئی تھی اور حکام کا کہنا تھا کہ اب تک مریضوں پر اس کے اثرات بہت زیادہ حوصلہ افزا رہے۔

اس دوا کو چین کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک اور جاپان میں بھی آزمایا جارہا ہے بلکہ جاپان تو اسے متعدد ممالک کو مفت دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں چند طبی ماہرین کووِیڈ 19 کے مریضوں پر پہلے سے دستیاب ایسی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں متاثرہ شخص کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور مریض صحت مند محسوس کرتا ہے۔

ان ادویات میں کلوروکوین فاسفیٹ سب سے نمایاں دوا ہے جو بینادی طور پر ملیریا سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لیے برسوں سے استعمال کی جا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں