The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: 50 سے زائد پاکستانیوں کی ملک بدری کے خلاف دفتر داخلہ کے باہر احتاج

لندن : برطانیہ میں مقیم 50 سے زائد پاکستانیوں کی ملک بدری کے خلاف تارکین کی بے دخلی کے حوالے کام کرنے والی تنظیم نے برطانوی محکمہ داخلہ کے باہر شدید احتجاج  کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم 50 سے زائد پاکستانی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جارہا ہے، ڈی پورٹیشن کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کی جانب سے پاکستانیوں کو ملک سے بے دخل کیے جانے کے خلاف برطانوی ہوم دیپارٹمنٹ کے باہر شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی تارکین کی ملک بدری کے خلاف احتجاج کرنے والی تنظیم کے اراکین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چارٹر طیاروں کے ذریعے ڈی پورٹ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈی پورٹیشن کے خلاف برطانوی ہوم ڈیپارٹمٹ کے باہر احتجاج کرنے والی تنظیم کے اراکین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں طویل عرصے سے مقیم پاکستانیوں کو برطانیہ کی شہریت دی جائے۔

برطانیہ میں تارکین وطن کی جبری بے دخلی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ آج 50 سے زائد پاکستانی تارکین وطن کو ملک سے بے دخل کیا جارہا ہے۔


برطانوی وزیرداخلہ ایمبررڈ نے استعفیٰ دے دیا


یاد رہے کہ ایمبررڈ نے گزشتہ ماہ اپریل میں برطانیہ کی داخلی امورکمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ وہ برطانیہ سے ممکنہ طورپربے دخل کیے جانے والے افراد کے کوٹے کی فہرست سے لاعلم ہیں۔

داخلی امور کی کمیٹی کے سامنے ایمبررڈ کے انکار پربرطانوی اخبار نے انہی کے ہاتھ سے لکھا ہوا میمو شائع کردیا تھا جس میں ایمبر رڈ نے لکھا تھا کہ بے دخل کیے جانے والے افراد کا کوٹہ مختص کردیا گیا ہے۔

برطانوی اخبارکے انکشاف کے بعد ایمبررڈ نے وزارت داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو برطانیہ کانیا وزیر داخلہ بنایا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں