The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں جنگ کے خلاف مظاہرے، فوج کی واپسی کا مطالبہ

واشنگٹن: ایران امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے جنگ کے امکانات کے پیش نظر سینکڑوں افراد نے امریکی شہروں میں مظاہرے کیے، نوجوانوں نے امریکی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹرمپ کا پتلا اٹھا کر امریکی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین مظاہرین نے جنرل قاسم سلیمانی کے حق میں بھی کتبے اٹھا رکھے تھے۔

غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور لاس اینجلس میں امریکی شہریوں نے جنگ کے خالف مظاہرے کئے، نوجوانوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر بھی جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔

دریں اثنا نیویارک، شکاگو سمیت دیگر شہروں میں بھی ایران پر امریکی پابندیوں اور جنگ کے خلاف مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے عراق اور افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایرانی جنرل کی ہلاکت، امریکی فوج کی آپریشنل سرگرمیوں پر پابندی عائد

واضح رہے کہ امریکی حملے میں جنرل سلیمانی کی موت پر ایران نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا نے حملہ کر کے بڑی غلطیاں کیں، جنرل سلیمانی کی موت کا جواب کسی بھی وقت کسی بھی شکل میں دیا جائے گا، امریکا نےعراق کی خود مختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا کے خلاف قانونی اقدامات بھی کریں گے۔

ادھر جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر ایران میں مظاہرے جاری ہیں، قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن جاسم الثانی نے تہران کا دورہ کیا ہے، انھوں نے اس نازک وقت میں ایرانی صدر سے ملاقات کی اور خطے کی صورت حال پر گفتگو کی۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد نیٹو نے بھی عراق میں تربیتی مشن معطل کر دیا ہے، نیٹو اہل کار داعش کے خلاف عراقی اہل کاروں کو تربیت دے رہے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں