The news is by your side.

Advertisement

لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری

لاڑکانہ: سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے، پیپلزپارٹی کے جمیل سومرو اور جے ڈی اے کے معظم علی عباسی میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 میں پولنگ کا عمل جاری ہے ، پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

لاڑکانہ کے حلقہ پی ایس 11 پر ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جمیل سومر اور جے ڈی اے کےمعظم علی عباسی میں سخت مقابلے کا امکان ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ایس 11 میں ضمنی الیکشن کے لیے 138 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 20 کو انتہائی حساس، 50 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

پی ایس 11 میں ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فوج، رینجرز اور پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ضمنی الیکشن کے دوران تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر پاک فوج کے جوان تعینات ہیں۔

لاڑکانہ پی ایس 11 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 152614 ہے جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 83016 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 69598 ہے۔

جمیل سومرو کی میڈیا سے گفتگو

پیپلزپارٹی کے امیدوار جمیل سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاحال پولنگ خوش اسلوبی سے جاری ہے، امید ہے انتخابی عمل شفاف و پرامن اورٹرن آؤٹ زیادہ ہوگا۔

جمیل سومرو نے مزید کہا کہ پرامید ہوں کہ جیت کر نشستوں کی سنچری مکمل کریں گے۔

معظم علی عباسی کا بیان

دوسری جانب جے ڈی اے اور پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار معظم علی عباسی نے کہا کہ ایک صوبائی نشست کے لیے پوری سندھ حکومت لاڑکانہ میں ہے، لاڑکانہ کے باشعور عوام جاگ چکے ہیں ، شکست پیپلز پارٹی کا مقدر ہے۔

معظم علی عباسی نے کہا کہ جی ڈی اے اور اتحادیوں نے پی پی کوعوام کے سامنے ہاتھ جوڑنے پرمجبور کر دیا، پیپلز پارٹی نے لاڑکانہ کے اعتماد کے جواب میں کرپشن اوراقربا پروی دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ لے کر لاڑکانہ تباہ کرنے والے کس منہ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن نے لاڑکانہ میں انتخابی خلاف ورزی پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو دوسرا نوٹس جاری کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ پہلے نوٹس کا جواب داخل نہ کروانے پر دوسرا نوٹس دیا گیا، نوٹسز کے جوابات جمع نہ کرائے تو قانونی کارروائی ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں