The news is by your side.

Advertisement

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کا انعقاد کب ہوگا؟ اشارہ مل گیا

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور فرنچائز مالکان نے پی ایس ایل 2020 کے بقیہ میچز رواں سال نومبر میں منعقد کرانے  پر سوچ بچار شروع کردیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز شہزاد ملک کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن فائیو کی جنرل کونسل کے آٹھویں آن لائن اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیزن فائیو کے بقیہ میچز اور دیگر معاملات پر تفصیلی سوچ بچار کیا گیا۔

اجلاس میں پی سی بی اور فرنچائز مالکان نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے بقیہ 4 میچوں کا نومبر میں انعقاد پہلی ترجیح ہے۔

اجلاس میں کرونا کے بعد کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا گیا کیونکہ کوویڈ 19 کی وجہ سے بقیہ میچز مزید تاخیر کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

پی سی بی اور تمام لیگ کی تمام چھ فرنچائزز کے نمائندگان نے پی ایس ایل کی طویل مدتی نشو و نما کو یقینی بنانے اور مالی استحکام پیدا کرنے کے  لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے پی ایس ایل کو 20 کروڑ روپے کا نقصان

اجلاس میں لیگ کے جاری جائزے کی بنیاد پر مختلف دیگر فیصلے بھی کیے گئے۔  گورننگ کونسل نے پاکستان سپر لیگ کو ایک آزاد شعبہ بنانے پر پی سی بی کو سراہا۔

پی سی بی اور فرنچائزز نے پی ایس ایل ڈیپارٹمنٹ اور ٹیموں کے درمیان باقاعدہ رابطے کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد لیگ سے متعلق مختلف آپریشنل اور اسٹریٹجک امور پر مشاورت کے عمل کو تیز اور بہتر بنانا ہے ۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کا کہنا تھا کہ ’آج گورننگ کونسل کا اہم اجلاس تھا جس میں سب کا مشترکہ ایجنڈا پی ایس ایل کا مستقبل اور اس کی فلاح تھا، پاکستان سپرلیگ کا مستقبل پاکستان کرکٹ بورڈ اور تمام فرنچائزز کے لیے اہم ہے لہذا سب مل کر اسے ایک بڑا اور مضبوط برانڈ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں شامل تمام کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ منفی

احسان مانی نے شرکا کو بتایا کہ پی سی بی اور فرنچائزز نے تمام زیرالتواء معاملات کو مل کر حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ دنیا کی بہترین کرکٹ لیگز میں شامل پی ایس ایل کے تمام فریقین کو فائدہ ہو اور وہ ترقی کی منازل اسی طرح طے کرتے رہیں تاکہ کرکٹ کا مستقبل روشن رہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں