مذاکرات کام یاب: بلوچستان نیشنل پارٹی وزارتِ عظمیٰ کے لیے عمران خان کی حمایت کرے گی -
The news is by your side.

Advertisement

مذاکرات کام یاب: بلوچستان نیشنل پارٹی وزارتِ عظمیٰ کے لیے عمران خان کی حمایت کرے گی

جہانگیر ترین اور شاہ محمود نے بی این پی سربراہ اختر مینگل کے ساتھ 6 نکاتی معاہدے پر دستخط کر دیے

کوئٹہ: تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کام یاب ہوگئے، بی این پی مرکز میں عمران خان کی حمایت کرے گی، دونوں جماعتوں نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں آج ہونے والے پی ٹی آئی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مذاکرات کام یاب ہوگئے، تحریکِ انصاف کی جانب سے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے بی این پی سربراہ اختر مینگل کے ساتھ 6 نکاتی معاہدے پر اتفاق کر لیا۔

پی ٹی آئی اور بی این پی کے درمیان معاہدہ تحریکِ انصاف کی مرکز میں ایک بڑی کام یابی ہے، معاہدے پر دستخط سے قبل عمران خان سے بھی فون پر منظوری لی گئی، کام یاب مذاکرات کے بعد دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

سردار اختر مینگل


بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا ’بلوچستان کی حکومت کو ہمیشہ وفاق کے لیے قربان کیا گیا، آج گوادر میں پینے کے لیے پانی اور مکران میں تین ماہ سے بجلی نہیں ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کو کوئٹہ بلانا انا کا مسئلہ نہیں بلکہ مسائل اور حقائق سے روشناس کرانا تھا۔

پاکستان اور امریکا میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے، عمران خان کی امریکی سفارتی وفد سے بات چیت

بلوچستان 70 سال سے مشکلات کا شکار ہے، آج ہمارے دکھ درد کو غور سے سنا گیا، ہم نے ماضی میں دیگر جماعتوں کے سامنے بھی اپنے نکات رکھے، عمران خان کے ساتھ دو دن سے رابطے میں ہوں، اب بلوچستان کے لوگوں کے زخموں کو بھرنے کا وقت آ گیا، پی ٹی آئی بلوچستان کا احساسِ محرومی ختم کر سکتی ہے۔‘

شاہ محمود قریشی


تحریکِ انصاف کے رہنما نے کہا ’ہم نے تفصیلی نشست میں ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کی، بلوچستان وفاق کی اہم اکائی ہے، آگے بڑھنا ہے اور بلوچستان کے دیرینہ مسائل حل کرنے ہیں، یہ ملاقات مسائل کے حل کی جانب بہت بڑا قدم ہے، ہم معاہدہ کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں، بی این پی کی قیادت وفاق میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے ہمیں سپورٹ کرے گی۔

عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ نامزد کر دیا

پی ٹی آئی وفاق کی علامت ہے، وفاقی سوچ لے کر کوئٹہ آئے، سی پیک قومی منصوبہ ہے، بلوچستان کی اہمیت تبدیل ہو جائے گی، تمام فیصلے مشترکہ اتفاق رائے سے ہوں گے، دونوں جماعتیں مشترکہ منشور پر عمل درآمد کریں گی، نیشنل ایکشن پلان پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیے، بلوچستان میں پانی کی قلت کے مسئلے کا حل ہمارے منشور کا حصہ ہے۔‘

قبل ازیں کام یاب مذاکرات کے دوران دونوں جماعتوں میں مختلف نکات پر اتفاق رائے ہوا اور بعد ازاں مفاہمتی یادداشت پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے دستخط کیے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر اس کا مکمل اختیار پی ٹی آئی منشور کا حصہ ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں