پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا ٹی او آرز پر لچک نہ دکھانے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا ٹی او آرز پر لچک نہ دکھانے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاناما لیکس پر ٹی او آرز سے متعلق حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان رابطہ ہوا ہے،اپوزیشن نے صف بندی کرنے پر غور شروع کردیااور اس معاملے میں لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ کیا، دونوں جماعتوں نے ٹرمز آف ریفرنس پر لچک نہ دکھانے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹی او آرز ڈیڈ لاک کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور پانامہ لیکس کے معاملے پر تشکیل دئیے جانے والے ٹی او آرز پر مشاورت کی۔

دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیاں رابطوں کو بڑھانے اور مشترکہ اجلاس بلانے پر بھی غور کیا اور کسی بھی صورت میں حکومت کو سہولت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ٹی او آرز پر اتفاق کے لیے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے تسلیم کریں تاکہ احتساب کے عمل کو جلد از جلد شروع کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ ٹی او آرز کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے، حکومتی کمیٹی نے موقف ظاہر کیا ہے کہ جب وزیراعظم نوازشریف کا نام پانامہ پیرز میں موجود نہیں ہے تو ٹی او آرز میں ان کا نام حکومتی ضد ہے۔

پڑھیں : پانامہ پیپرز: ٹی او آرز کمیٹی کی مدت آج ختم، ڈیڈ لاک برقرار

  حکومتی کمیٹی نے موقف ظاہر کیا ہے کہ ’’ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ٹی او آرز کے نام پر وزیراعظم کا احتساب چاہتے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے‘‘۔

مزید پڑھیں : وزیر اعظم کے لیے بہتر ہے اپوزیشن کے ٹی او آرز تسلیم کرلیں، خورشید شاہ

  دوسری جانب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ’’مسلم لیگ ن کے اراکین کو اپوزیشن کے ٹی او آرز ہر صورت تسلیم کرنے ہوں گے، حکومتی اراکین بلاجواز ایک خاندان کا دفاع کررہے ہیں‘‘۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے معروف قانون دان کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر کہا تھا کہ ’’ حکومت کو ٹی او آرز کے لیے ابھی وقت دیں گے، میاں صاحب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو تسلیم کریں اور احتساب کا عمل شروع کروائیں تاکہ صیح صورتحال قوم کے سامنے لائی جاسکے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں