عمران خان نے وزارتِ اعلیٰ کے لیے محمود خان سے متعلق سینئر قیادت سے رائے مانگ لی -
The news is by your side.

Advertisement

عمران خان نے وزارتِ اعلیٰ کے لیے محمود خان سے متعلق سینئر قیادت سے رائے مانگ لی

عاطف خان پر میڈیا سے بات کرنے پر پابندی عائد، پرویز خٹک اور علی امین گنڈا پور سمیت چار ارکان کو صوبائی نشستیں چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کے پی کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے محمود خان سے متعلق سینئر قیادت سے رائے مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت میں حکومت سازی اور وزارتوں کی تقسیم کا معاملہ ایک مشکل ترین مرحلے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے منصب کے لیے بھی کسی امیدوار کا فیصلہ نہیں کر پا رہی، تاہم عمران خان اس سلسلے میں مسلسل مشاورت کر رہے ہیں اور کسی بھی وقت نام کا اعلان کر دیں گے۔

ذرائع نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے پرویز خٹک نے عمران خان کے سامنے محمود خان کا نام پیش کیا ہے، جس پر پی ٹی آئی چیئرمین نے دیگر سینئر قیادت سے بھی رائے طلب کی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرویز خٹک ایک اور منتخب رکن شاہ فرمان کا نام بھی کے پی کے وزیرِ اعلیٰ کے منصب کے لیے پیش کر چکے ہیں۔

پرویز خٹک اور عاطف خان کا ٹاکرا


دریں اثنا پرویز خٹک اور عاطف خان کے درمیان وزارتِ اعلیٰ کے سلسلے میں ناخوش گزار سوال جواب ہوئے، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑگئی۔

پرویز خٹک نے عاطف خان پر سوال نما اعتراض کیا ’میڈیا میں وزارتِ اعلیٰ کی لابنگ کر رہے ہو؟‘ عاطف خان نے جواب میں کہا ’میں میڈیا میں کوئی لابنگ نہیں کر رہا۔‘

اب وقت آگیا ہے کہ اس پرائی جنگ سے باہر نکلیں: نگراں وزیر اعلیٰ کے پی

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے عاطف خان پر پابندی لگا دی کہ وہ میڈیا سے کوئی بات نہیں کریں گے۔

پرویز خٹک اور امین گنڈا پور کو نشستیں چھوڑنے کا حکم


دوسری طرف پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں پرویز خٹک اور علی امین گنڈا پور کو صوبائی نشستیں چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے، دو مزید منتخب اراکین بھی نشستیں چھوڑیں گے۔

انتخابی مہم کے دوران نامناسب بیان پر پرویز خٹک نے معافی مانگ لی

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حیدر علی اور اسد قیصر کو بھی صرف قومی نشستیں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ چاروں رہنما بہ یک وقت قومی اور صوبائی دونوں نشستوں پر کام یاب ہوئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں