The news is by your side.

Advertisement

اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی تاریخ میں 3 جولائی تک توسیع

بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں: مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ شیخ عبد الحفیظ نے کہا کہ ہم ایسیٹ ڈکلیریشن اسکیم کے آخری مراحل میں ہیں، شہریوں سے اپیل ہے اسکیم سے فائدہ ضرور اٹھائیں، حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی تاریخ میں 3 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں حکومت کی معاشی ٹیم نے نیوز کانفرنس کی، معاشی ٹیم میں مشیر خزانہ، وزیر مملکت حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی شامل تھے، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے ہر چیز میں شفافیت ہو، عوام سے سچ بولا جائے اور اقتصادی صورت حال کو بغیر چھپائے پیش کیا جائے۔

مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں، اللہ کا شکر ہے بجٹ اچھے انداز میں پاس ہوا، مشکل وقت سے نکلنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اپنی جائیداد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ایسیٹ ڈکلیریشن اسکیم آسان طریقہ ہے، بے نامی جائیداد کے لیے ایک قانون ہے جو کافی سخت سزاؤں پر مبنی ہے، ہم ایک کمیشن بنا رہے ہیں جو اسکیم کے بعد بے نامی جائیدادوں کے پیچھے جا سکتی ہے، اس لیے ایسیٹ ڈکلیریشن اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے 3 روز بڑھا رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئی تو سرکلر ڈیٹ 31 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، امپورٹ پر 60 بلین ڈالر خرچ کر رہے تھے جب کہ ایکسپورٹ صرف 20 بلین ڈالر تھی، اس صورت حال میں سب سے پہلے سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے قدم اٹھائے گئے، امپورٹڈ اشیا پر ٹیرف لگائے گئے جنھیں بجٹ میں بھی برقرار رکھا گیا۔

عبد الحفیظ نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ساڑھے 13 سے گرا کر 7 ملین ڈالر کرنے کا ہدف ہے، دوست ممالک کے ذریعے ہمیں 9.2 بلین ڈالرز ملے، سعودی عرب سے 3.2 بلین ڈالر کا تیل 3 سال کے ادھار پر لیا، قطر سے 3 بلین ڈالر کا معاہدہ ہوا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس سال بجٹ میں 50 ارب روپے کم کرنے کا فیصلہ کیا، تمام بڑے افسران کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں، کابینہ کے ممبران کی تنخواہ 10 فی صد کم کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ مسلح افواج کی لیڈر شپ نے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم سب نے مل کر ملک کی معیشت کو بہتر بنانا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت صرف کم زور طبقے پر پیسا خرچ کرے گی، خدا نخواستہ بجلی کی قیمت بڑھے تو 300 یونٹ استعمال کرنے والوں پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 216 ارب روپے رکھے ہیں۔ دہشت گردی کا سامنا کرنے والے قبائلی علاقے کے لوگوں کے لیے 152 ارب روپے رکھے ہیں۔

عبد الحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ انڈسٹریلسٹ کو بجلی، گیس اور قرضوں کے لیے حکومت سبسڈی فراہم کرے گی، صنعت کار کے لیے خام مال کی امپورٹ پر بھی ٹیکس صفر کیا جائے گا، حکومت نے خام مال کی ٹیرف لائن سے ٹیکس ختم کر دیا ہے، انڈسٹریز کے لیے کسی ایکسپورٹ پر ٹیکس نہیں لگے گا، انڈسٹریز سے کہا ہے کپڑا پاکستانی مارکیٹ میں بیچیں گے تو اس پر ٹیکس دینا ہوگا، 1800 ارب کپڑا ایکسپورٹ پر ہمیں 6 ارب کا ٹیکس ملتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے سخت سے سخت اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا، امیر طبقوں سے ٹیکس لینے کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں، خطے کے دوسرے ملک میں بھی امیر طبقہ بہت کم ٹیکس دیتا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پی ایس ڈی پی میں اضافہ کیا گیا، پی ایس ڈی پی کے تحت بلوچستان، جنوبی پنجاب جیسے علاقوں پر توجہ دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 5500 ارب روپے رکھا گیا ہے، ٹیکس ریونیو ہدف پورا ہوگا تو ہی حکومت وہ کر سکتی ہے جو لوگ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں صاف پانی ملے، اسپتال، یونی ورسٹی اسکول کالجز بنیں، پاکستان میں لوگوں نے جمہوری عمل کو دیکھ لیا ہے، لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ بجٹ پر کبھی اتنی تقاریر پارلیمنٹ میں نہیں ہوئیں، حکومت سے زیادہ اپوزیشن کو موقع فراہم کیا گیا، ملک میں جمہوریت کے تحت بجٹ کے عمل کو پورا کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں