بجٹ 18-2017: کوئی اسکیم نہیں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں دیں Budget- 2017-18
The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 18-2017: مختلف عوامی مطالبات سامنے آگئے

اسلام آباد: وفاقی حکومت کل آئندہ مالی سال 18- 2017 کے لیے بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، عوام  بجٹ میں حکومت سے کیا چاہتے ہیں اس ضمن میں اے آر وائی نیوز نے لوگوں کی آراء حاصل کی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی دورِ حکومت کے پانچویں اور آخری بجٹ پر عوام نے حکومت سے جہاں مختلف مطالبے کیے وہیں مفت تعلیم ، لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو حل کرنے اور نوکریوں کے نئے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔

عظیم خان تنولی نے کہا کہ بجلی کہ منصوبے بروقت پایہ تکمیل کو پہنچا دیں اور غریب عوام کے لیے  200 یونٹ تک سبسڈی دیں, پانی کی قلت تقریبا ہر شہر میں ہے تو پانی کہ منصوبوں کےلیے ہنگامی بنیادوں پر وفاق اور صوبے فنڈ مختص کرکے ان منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیں۔

شہری حق نواز بابر نے کہا کہ ملک سے رشوت، لاقانونیت اور پولیس کلچر ختم ہونا چاہیے تاکہ ہر آدمی کو انصاف جلد از جلد مل سکے اور جو غلط کام کرے یا قانون کی خلاف ورزی کرے تو اسے غریب امیر کے فرق سے ہٹ کر سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کالج اور اسپتالوں کا عملہ سرکاری ڈیوٹی اوقات میں پرائیوٹ جاب کرتا ہے اور حکومت سے پوری تنخواہ لیتا ہے، ایسے لوگوں کو پابند کیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے اور اسپتالوں کا نظام بہتر ہوسکے اور چیزوں میں ملاوٹ کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے۔

حق نواز نے مشورہ دیا کہ محکمہ لینڈ کو درست کیا جائے کیونکہ افسران کاشت کاروں سے ہر کام کی رشوت طلب کرتے ہیں، سرکاری محکموں میں ہونے والی کرپشن ختم ہوگی تو مہنگائی کو قابو کیا جاسکے گا، چیزیں ذخیرہ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے اور سگریٹ سمیت دیگر مضر صحت اشیا پر ٹیکس لگایا جائے تاکہ نوجوانوں میں سے نشے کی لت کو دور کیا جاسکتے۔

روحین جان نامی صارف کا کہنا ہے کہ گریجویشن کرنے والے طلبہ و طالبات کا ماہانہ وظیفہ اُن کی صلاحیتوں کی بنیاد پر مقرر کیا جائے تاکہ نوجوان بیرون ملک جانے کے بجائے ملک کی خدمت کریں، غربت کے باعث ہزاروں خودکشی کرتے ہیں افراد بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ایسے افراد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔

ناصر اعوان کا کہنا تھا کہ مزدور کی کم از کم اُجرت 20 ہزار روپے مقرر کی جائے، حکومت نے گزشتہ بجٹ میں پرائیوٹ انڈسٹریز میں کام کرنے والے مزدوروں کی تنخواہوں میں 1 ہزار روپے بڑھانے کا اعلان کیا تھا تاہم اُس پر بھی عمل نہیں ہوسکا جبکہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

یوسف رضا کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں حکومت اراکین اسمبلی کی تنخواہوں، ہاؤسنگ اسکیمز کے لیے منظور ہونے والے پیسوں کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرے اور عوام کو 15 فیصد تک ریلیف دے۔

ملک عامر نامی صارف نے کہا کہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے وہ طالب علم جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سافٹ وئیر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے وہ ڈگری حاصل کریں اور عالمی سطح پر دیگر ممالک کے لوگوں کا مقابلہ کریں۔

نفیس محمود کا کہنا تھا کہ ہر سال تنخواہوں میں اضافہ فیصد کے حساب سے ہوتا ہے، اس بار تنخواہوں میں اضافہ  بجٹ کے حساب سے کیا جائے، جتنی مہنگائی ہو اُسی حساب سے تنخواہوں میں بھی اضافہ لازم ہے۔

آصف رضا نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سرکاری ملازمین کی طرح نجی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا اعلان کرے اور اُس پر عمل درآمد بھی کروائے۔

اشتیاق احمد خان نے اے آر وائی کی کاوش کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرے۔

بلال جتوئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو پیلی ٹیکسی، قرضہ اسکیم کی نہیں بلکہ نوکریوں کی ضرورت ہے، اس وقت ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے جنہیں نوکریاں دینے کی ضرورت ہے۔

احمد علی نے کہا کہ کنٹریکٹ اور ٹھیکے کے نظام کو ختم کیا جائے اور عوام کو مستقل ملازمتیں فراہم کی جائیں۔

محمد اشتیاق نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے۔

حافظ طلال احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں تعلیم کو بالکل مفت کیا جائے۔

ارج مانو نامی صارف کا کہنا تھاکہ حکومت پراپرٹی لین دین پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرے۔


صارفین کی جانب سے جہاں سنجیدہ تجاویز دی گئیں وہی کچھ لوگوں نے غیر سنجیدہ کمنٹس بھی کیے۔


ایک صارف نے کہا کہ ہم نے حکومت کو معاف کردیا اب وہ ہمیں معاف کرے اور وزیراعظم استعفاء دیں۔

الحاج ذوالفقار علی نامی صارف نے کہا کہ حکمران قانون پاس کریں کہ جو پاکستانی 10 ہزار تنخواہ پہ کام کرے اسے گولی مار دیں کیونکہ وہ ادھ موا ھوتاھے، بہت ملیں گے اور پھر ان پیسوں سے۔

اسحاق گجر نے کہا کہ حکومت عوام سے جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور سچ بولے۔

 


نوٹ: فیس بک پوسٹ پر سیکڑوں صارفین نے کمنٹس کیے تاہم ادارے نے قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار اور تہذیب و اخلاق کے دائرے میں کیے گئے کمنٹس کو اسٹوری میں شامل کیا ہے، عوامی سنجیدگی اور اُن کی آراء کو حکمرانوں تک پہنچانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں