تہران، کمسن بچی سے زیادتی کے ملزم کو بیچ چوراہے پر سرعام پھانسی iran
The news is by your side.

Advertisement

ایران، کمسن بچی سے زیادتی، ملزم کو سرعام پھانسی

تہران : سات برس کی کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزام میں 42 سالہ اسماعیل جعفر کو سرعام ہزاروں افراد کے سامنے مصروف چوراہے پر پھانسی دے دی گئی۔

بیالیس سالہ ملزم اسماعیل جعفر زادہ کی سرعام پھانسی کا منظر بدھ کے روز سرکاری ویب سائٹ پر بھی شیئر کیا گیا جسے لاکھوں نے دیکھا جب کہ پھانسی کے وقت بھی جائے مقام پر ہزاروں مشتعل لوگ موجود تھے جو سفاک ملزم کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

زیادتی کے ملزم کو شمالی مغربی علاقے کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن پرساآباد میں سرعام پھانسی دی گئی جس کا مقصد لوگوں کے دلوں میں جرائم سے قبل سزا کے خوف کو اجاگر کرنا اور جرائم سے نفرت کا اظہار کرنا تھا۔

سرکاری پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی کی وجہ شہریوں میں تحفظ کے احساس کو اجاگر کرنا اور مجرمانہ زہنیت پر قدغن لگانا تھا تاکہ جرائم کی شرح پر قابو پایا جا سکے اور ایران میں اس قسم کے مجرموں کے خلاف کسی قسم کا نرمی نہیں برتی جاتی۔

خیال رہے سات سالہ معصوم بچی اٹینا اسلانی 19 جون کو گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی اور چند روز بعد بچی کی تشدد زدہ لاش کچرے خانے سے ملی تھی جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ ہاٹ ایشو رہا اور لوگوں نے ملزم کی گرفتاری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی صدر حس روحانی نے اس دل سوز واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے قتل بعد از زیادتی کی اس واردات کو ہولناک قرار دیا اور ملزم کی جلد از جلد گرفتاری اور عبرتناک سزا کی ہدایات جاری کی تھیں جس کی تعمیل کرتے ہوئے مقامی پولیس نے اس پچیدہ کیس کو ڈھائی ماہ کے اندر حل کرلیا۔

پولیس نے ابتدائی شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کیا اور اگست میں ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی اور سبک رفتاری سے ہونی والی سماعت کے بعد عدالت نے 11 ستمبر کو ملزم کو پھانسی کی سزا کا اعلان کیا جس پر عمل درآمد آج صبح کیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں