The news is by your side.

Advertisement

زہریلی “پفر” اچانک خوب صورت روپ کیوں‌ دھار لیتی ہے؟

سمندر سے لے کر میٹھے پانی تک، دریاؤں، جھیلوں، پہاڑی جھرنوں اور تالاب میں بے شمار اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جو ہماری غذائی ضرورت پورا کرنے کے ساتھ کئی خواص کے سبب مختلف صورتوں میں ہمارے لیے مفید بھی ہیں، لیکن اس آبی مخلوق کی بعض اقسام زہریلی اور مضرِصحّت بھی ہیں۔

رنگ برنگی اور خوب صورت مچھلیوں‌ میں سے ایک پفر بھی ہے جسے ’بلو فش‘ بھی کہا جاتا ہے جو کسی خطرے کو بھانپ کر یا شکاری کو اپنی طرف آتا دیکھ کر گول (گیند کے مانند) شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس مچھلی کا یہ روپ بہت پیارا لگتا ہے، لیکن یہ اس حالت میں مزید خطرناک ہوجاتی ہے۔ دو سو سے زائد اقسام کی اس مچھلی میں بعض کی کانٹے دار ہوتی ہیں۔

سائنس دانوں‌ کے مطابق بلو فش کا پیٹ نہایت لچک دار ہوتا ہے جس میں پانی جمع کرنے کے بعد وہ پھول جاتی ہیں اور یوں کسی شکاری کے لیے انھیں کھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

پفر مچھلیوں میں ’ٹیٹروڈو ٹاکسن‘ نامی ایک زہر ہوتا ہے جس پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ’سائنائیڈ‘ سے بھی 1200 گنا زیادہ خطرناک ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زہریلی ہونے کے باوجود اسے بعض‌ ممالک میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ تاہم اسے ماہر باورچی ہی تیار کرتے ہیں اور کاٹنے کے بعد اس کی صفائی پر‌ خاص توجہ دی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں