The news is by your side.

Advertisement

پنجاب حکومت کا تقریبا 22 کھرب 40 ارب کا بجٹ پیش: اپوزیشن کا شورشرابہ

لاہور : پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کیلئے تقریبا 22 کھرب 40 ارب کا بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیا اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے شورشرابہ اور نعرے بازی کی۔

ایک ہزار 240ارب مالیت کا ریلیف پیکج متعارف

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں آج صوبے کا بجٹ پیش کیا گیا، صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے بجٹ تقریر کی، انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں240ارب روپے مالیت کا ریلیف پیکج متعارف کرایا گیاہے،143ارب روپے احساس پروگرام سے مستحقین کو ریلیف دیا گیا،ٹیکسوں کی وصولی میں بھی13فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کورونا اثرات سے نمٹنے کیلئے43ارب سے زائدمختص 

انہوں نے کہا کہ آخری سہ ماہی میں کورونا کی وبا نے معاشی سرگرمیوں کو متاثرکیا، بجٹ میں106ارب روپے کورونا سے متعلق منسلک کئے گئے ہیں، کورونا کے اثرات سے نمٹنےکیلئے43ارب سے زائد کا بندوبست کیا، آسان کاروبار والوں کیلئے18ارب روپے ٹیکس ریلیف کی مثال نہیں ملتی، حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔

صوبائی محصولات کا ہدف317ارب روپے مقرر

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کےتحت1433ارب روپے دیے جائیں گے، صوبائی محصولات کا ہدف317ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، بجٹ میں عوامی رائے کو مدنظر رکھ کر11شعبوں کیلئے فنڈز مختص کئے گئے، بجٹ کے تحت56ارب سے زائد کاریلیف فراہم کیا جائے گا۔

ہیلتھ انشورنس، ڈاکٹرز کنسلٹنسی فیس اور اسپتالوں پر ٹیکس صفر

ہاشم جواں بخت نے بتایا کہ ہیلتھ انشورنس، ڈاکٹرز کنسلٹنسی فیس اور اسپتالوں پر ٹیکس صفر کیا جارہا ہے،20سے زائد سروسز پر ٹیکس16سے5فیصد کرنے کی تجویز ہے، بلڈرز پر50روپے فی مربع فٹ، ڈیولپرز سے100روپے فی مربع گز ٹیکس کی تجویز ہے، تاہم کنسٹرکشن سروسز سے ٹیکس چھوٹ ہوگی۔

پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی دو اقساط میں

انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور بیوٹی پارلرز پرکیش ادائیگی کرنے والے صارفین سے16فیصد جبکہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے والوں سے5فیصد ٹیکس وصول کیا جائیگا، آئندہ مالی سال پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی دو اقساط میں کی جاسکے گی،30 ستمبرتک مکمل ٹیکس ادائیگی کی صورت5کی بجائے10فیصد ریبیٹ دیا جائے گا۔

انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح20سے کم کرکے5فیصد

اس کے علاوہ انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح20فیصد سے کم کرکے5فیصد کی جارہی ہے،سینما گھروں کو30جون2021تک ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹوکن کی مکمل ادائیگی پر10کی بجائے20ریبیٹ دیا جائے گا، آن لائن ادائیگی کی صورت میں5فیصد اسپیشل ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔

اخراجات کا حجم13کھرب18ارب روپےمختص

ہاشم جواں بخت نے بتایا کہ آئندہ مالی سال جاری اخراجات کا حجم13کھرب18ارب روپے رکھا گیا ہے، تنخواہوں کا بجٹ337 ارب60کروڑ رکھا گیا ہے، مقامی حکومتوں کے بجٹ میں10ارب روپے سے زائد کا اضافہ جبکہ ترقیاتی بجٹ کیلئے337ارب روپے اور انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کیلئے77ارب66کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سوشل سیکٹرز کیلئے97ارب66کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کیلئے77ارب66کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

صحت کیلئے284ارب20کروڑروپےمختص

اس کے علاوہ سروسز سیکٹر کے لئے45ارب38کروڑ روپے، صحت کیلئے284ارب20کروڑروپےمختص، کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے13ارب روپے، ادویات کی خریداری کیلئے26ارب روپے سےزائد، آئندہ مالی سال صحت انصاف کارڈ کیلئے12ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کیلئے1ارب روپے مختص

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلتھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیلئے37ارب56کروڑروپے، زراعت کےلئے31ارب73کروڑروپے، لائیو اسٹاک کےلئے13ارب 30کروڑروپے، اس کے علاوہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کیلئے1ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں