The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کابینہ نے نئے مالی سال 2021-22 کی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی

لاہور : پنجاب کابینہ نےنئے مالی سال 2021-22کی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی، جسمیں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری  بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیرصدارت صوبائی کابینہ کااجلاس ہوا ، پنجاب کابینہ نے نئے مالی سال 2021-22 کی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی ، نئے مالی سال 2021-22 کی بجٹ تجاویزکی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔

کابینہ نے ضمنی بجٹ مالی سال2020-21 ، مالی سال 2020-21 کے بجٹ کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات اور مالیاتی بل 2021 سمیت صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری بھی دی۔

بورڈ آف ریونیو کی جانب سے زرعی ٹیکس میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور پنجاب کابینہ نےاتفاق رائے سے زرعی ٹیکس میں اضافے کی تجویز کوردکر دیا۔

عثمان بزدار نے کہا کہ کسان پرکوئی بوجھ نہیں ڈالا جائےگا، آج پی ٹی آئی کے دور میں کاشتکارخوشحال ہے، کاشتکارکومزید خوشحال بنائیں گے اور ریلیف دیں گے۔

پنجاب کابینہ نے ورکرزکی کم از کم اجرت میں اضافے کی منظوری دےدی اور ورکرز کی کم از کم اجرت 17500سے بڑھا کر 20ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ترقیاتی بجٹ میں ریکارڈاضافہ کیاجارہاہے، پہلی بارہرضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج تیارکیاگیاہے، بجٹ میں عام آدمی کوریلیف دینےکےلئےاقدامات تجویزکئےگئے اور حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کئےگئےہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ عوام کی بنیادی ضروریات کومدنظررکھ کرترجیحات کاتعین کیاگیا، بجٹ اعدادوشمارکی جادوگری نہیں متوازن ترقی پرمبنی حقیقی دستاویز ہے، نااہل اورناکام اپوزیشن کا کام صرف شورمچانارہ گیاہے، اچھےکاموں پرتنقیدبرائےتنقیدکرناانہیں زیب نہیں دیتا، اپوزیشن نےکوروناوباکےدوران بھی صرف واویلا کیا، بجٹ اجلاس کےدوران اراکین اسمبلی سےمسلسل رابطہ رہےگا۔

کابینہ اسٹینڈنگ کمیٹی فنانس اینڈڈویلپمنٹ کے 2اجلاسوں کے فیصلے ، کمیٹی کے57ویں،58 ویں اجلاس کےفیصلوں اور کمیٹی برائے قانونی امور کے 60،61 ، 62 ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

بجٹ میں سماجی شعبے پر 205 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ، اسکول ایجوکیشن کیلئے 35 ارب 50کروڑ، ہائر ایجوکیشن کیلئے 15 ارب ، اسپیشل ایجوکیشن کیلئے 75 کروڑ روپے، لٹریسی اینڈ فارمل ایجوکیشن کیلئے 2 ارب 90کروڑروپے ، کھیلوں اور امور نوجوانان کیلئے 6 ارب 15 کروڑ روپے اور اسپیشل ہیلتھ کئیر اور میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 78 ارب 70 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرکے لئے 17 ارب 21 کروڑروپے ، پاپولیشن ویلفیئرکیلئے 2 ارب 10 کروڑروپے ، واٹرسپلائی اینڈسینی ٹیشن کیلئے 18 ارب 70کروڑ ، سوشل ویلفیئرکیلئے 1 ارب 22 کروڑروپے اور خواتین کی ترقی کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں