The news is by your side.

Advertisement

پنجاب حکومت کی ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلیے اپوزیشن کو نئی پیشکش

پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلیے حکومت نے اپوزیشن کو ایک اور نئی پیشکش کردی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک کے باعث پنجاب اسمبلی کا اعلان کردہ بجٹ اجلاس کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی شروع نہیں ہوسکا ہے اور حکومت نے یہ ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کو ایک اور تجویز پیش کردی ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے پیشکش کی ہے کہ مذاکرات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے چار چار رکنی کمیٹی بنادی جائے اور اس سلسلے میں حکومت نے اپنی چار رکنی کمیٹی کے ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے جس میں ملک احمد، رانا مشہود، ملک ندیم اور خلیل طاہر سندھو شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن کے مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب طلب کیے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اس حوالے سے اپوزیشن کی کمیٹی کےنام مانگ لیے ہیں یہ کمیٹی اب تک درج مقدمات کا جائزہ لے گی اور اس کمیٹی کی جو بھی سفارشات ہوں گی اس کو پنجاب حکومت تسلیم کرے گی۔

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومتی ٹیم نے آئی جی کے ایوان میں آکر معافی مانگنے کے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر تحقیق کے آئی جی سمیت کوئی بھی افسر معافی نہیں مانگے گا اور اگر ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے باعث اجلاس نہ ہوا تو حکومتی ارکان وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی قیادت میں ایوان جائیں گے۔

واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے پر ڈیڈ لاک ہونے کے باعث صوبہ پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں پر درج مقدمات واپس لیے جائیں جبکہ بجٹ سے قبل آئی جی پنجاب ایڈوائزری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر معافی مانگیں اور اسمبلی اسٹاف پر درج مقدمات بھی واپس لیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک، پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ آفس نے اپوزیشن مطالبات کو مسترد کردیا ہے، جس کے بعد حکومتی ٹیم نے وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد اپنی شرائط پیش کردی ہیں جس میں حکومت کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی پر درج ہونے والے مقدمات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، تحقیقات ہونگی کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران کیا کچھ ہوا، تحقیقات کے بغیر کسی قسم کا معاہدہ قبول نہیں ہو گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں