site
stats
پاکستان

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں کے حوالے

لاہور : پاکستان عوامی تحریک کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا۔ جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی مصدقہ نقل حکومت پنجاب نے بالاخر فراہم کردی، سول سیکرٹریٹ کے باہر شہدا ماڈل ٹاون کے ورثا اور کارکنان کی نعرے بازی کی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کی کاپی لینے سول سیکریٹریٹ پہنچے، لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ ساڑھے تین سال بعد پاکستان عوامی تحریک کے رہنماوں کے حوالے کردی گئی۔

سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیرقانون مستعفی ہوں۔

سول سیکرٹریٹ کے باہر تنظیم کے کارکنوں نے عدالتی حکم کوسراہا جبکہ پاکستان عوامی تحریک اور شہدا کے ورثا انصاف کے حصول کے لئے مزید جدوجہد کے لئے پرعزم دکھائی دیئے۔

اس سے قبل خرم نوازگنڈاپور کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے ہر صفحے پر اختلاف ہے، رپورٹ کی لاہورہائی کورٹ سے تصدیق کرائیں گے۔


مزید پڑھیں : لاہور ہائیکورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ 30 دن میں شائع کرنے کا حکم


کارکنان کا کہنا تھا رپورٹ کی تصدیق کر کے لائحہ عمل طے کرینگے۔

، گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد حکومتِ پنجاب کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ جاری کردی تھی اور ماڈل ٹاؤن واقعہ ملکی تاریخ کا بدترین سانحہ قراردیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی،رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں اجلاس بھی سانحہ کا سبب بنا۔

باقرنجفی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خونی پولیس آپریشن روکنے کیلئے وزیراعلٰی کےاحکامات کہیں نہیں ملے، شہبازشریف بروقت ایکشن لیتےتوبہیمانہ قتل وغارت کو روکا جاسکتا تھا۔


مزید پڑھیں : فائرنگ و تشدد سے ثابت ہوا کہ پولیس نے وہی کیا جس کا حکم دیا گیا، رپورٹ


رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ اور تشدد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے پولیس حکام نے وہ ہی کیا جس کا حکم دیا گیا جب کہ حکومت پنجاب نےعدالتی احکامات کے باوجود بیریئز ہٹانے کیلئے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے نہیں لی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top