The news is by your side.

Advertisement

محکمہ صحت پنجاب پر ڈاکٹرز کا استعفوں کی منظوری کے لیے رشوت لینے کا الزام

لاہور: محکمہ صحت پنجاب نے ڈاکٹرز کے استعفے روک لیے ہیں، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں استعفے دیے 6 ماہ ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے تاحال انھیں قبول نہیں کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایڈہاک ڈاکٹرز نے محکمہ صحت پنجاب پر ان کے استعفے منظور نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ماہ سے استعفے دے رکھے ہیں لیکن قبول نہیں کیے جا رہے۔

ڈاکٹرز نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے دفتر میں استعفیٰ قبول کرنے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو ڈاکٹرز پیسے دے دیتے ہیں، صرف ان کا استعفیٰ قبول کر لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ استعفیٰ قبول کرنے کے لیے بھی رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کی جانب سے ترجمان محکمہ صحت پنجاب سید حماد سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا۔

ڈاکٹرز نے استعفیٰ کیوں دیا؟ حقیقت سامنے آ گئی

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت پنجاب کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ڈاکٹرز استعفے دینے پر مجبور ہیں، اور اب محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کے لیے ڈاکٹرز کا استعفی روکے بیٹھے ہیں۔

یاد رہے کہ 5 جولائی کو پنجاب کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ٹیچنگ اسپتالوں سے 48 ڈاکٹرز نے استعفیٰ دے دیا تھا، مستعفی ہونے والے ڈاکٹرز میں میو اسپتال کے 14 اور جناح اسپتال کے 7 ڈاکٹرز شامل تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں