فیصل آباد: وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر 2 دن بعد 8 سالہ بچہ رہا، ایس ایچ او معطل -
The news is by your side.

Advertisement

فیصل آباد: وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر 2 دن بعد 8 سالہ بچہ رہا، ایس ایچ او معطل

فیصل آباد: پنجاب پولیس کی پھرتیاں سامنے آ گئیں، 8 سالہ طالبِ علم کو حوالات میں خطرناک ملزموں کے ساتھ بند کر کے رکھا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے کر بچے کو رہا کروا دیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد پولیس نے آٹھ سالہ بچے کو دو دن تک حوالات میں عادی ملزمان کے ساتھ بند رکھا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حکم پر بچے کو رہا کر دیا گیا۔

بیٹا بارات میں پیسے لوٹنے گیا تھا، چوری نہیں کی۔

والدہ

ترجمان وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے بچے کی فوری رہائی کا حکم دیا، ان کے حکم پر تھانا ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ تیسری جماعت کے طالبِ علم پر چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا، والدین کی منت سماجت کے با وجود ایس ایچ او نے بچے کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس 8 سال کے اویس علی کو بھائی کی جگہ اٹھا لائی تھی، اویس کے بھائی پر چوری کا پرچا درج کرایا گیا تھا، جب کہ والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بارات میں پیسے لوٹنے گیا تھا، چوری نہیں کی۔


یہ بھی پڑھیں:  گورنر پنجاب نے اپنی جیب سے جرمانے کی رقم ادا کرکے 32 قیدیوں کو رہائی دلوادی


دریں اثنا اویس علی تھانہ غلام محمد آباد سے رہائی کے بعد گھر پہنچ گیا، اویس علی نے بتایا کہ تھانے کے منشی نے مجھے تھپڑ مارے اور کمرے میں بند کر دیا، پولیس والے جیل بھجوانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ چوری کا الزام لگانے والی خاتون نے میری تلاشی لی، کوئی چیز نہیں ملی، 2 دن حوالات میں سویا، گھر والوں کو یاد کر کے روتا تھا۔

خیال رہے کہ فرید گنج کے ایک رہائشی نے غلام محمد آباد تھانے میں موبائل فون اور رقم چوری کی درخواست دی تھی، ملزم ہاتھ نہ آیا تو پولیس نے اس کے آٹھ سالہ بھائی کو اٹھا لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں