The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں تعلیمی سیشن خطرے میں پڑ گیا

لا ہور : پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور نجی پبلشروں کے درمیان جاری سرد جنگ شدت اختیار کرگئی جس سے ماضی کی طرح اس سال بھی پنجاب کے لاکھوں طالب علموں کو مفت کتابوں اور پریکٹیکل کاپیوں کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ایک نصاب اور نئی کتابوں کی اشاعت پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ (پی ٹی بی بی) اور نجی پبلشرز کے درمیان رسہ کشی عروج پر پہنچ گئی، دو فریقین کی اس لڑائی میں طلبا و طالبات کا مستقبل خطرے میں پڑگیا۔

اس تنازع کے باعث نجی پبلشرز کو درسی کتب کی اشاعت کی اجازت نہ مل سکی جس کی وجہ سے نیا تعلیمی سیشن خطرے میں پڑگیا ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں نمائندہ لاہور حسن حفیظ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس سال نجی پبلشرز کو کتابیں چھاپنے کیلئے این او سی نہیں دیا جارہا، پبلشرز کا کہنا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سے متعلق آف دی ریکارڈ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انہیں این او سی جاری کرنے سے منع کردیا گیا ہے جس کا تحریری حکم نہیں ملاہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹیکسٹ بک پبلشر ایسوسی ایشن فواد نیاز نے بتایا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے فی کتاب کی فیس دو ہزار سے ساڑھے چار لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی رائٹنگ یا پینٹنگ کاپیز کی فیس بھی دو لاکھ 85ہزار روپے کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پرائیوٹ پبلشرز پر بغیر اجازت کتب کی اشاعت پر پابندی عائد کردی ہے کیونکہ ملک بھر میں یکساں نطام تعلیم کے نفاذ کے بعد پرائیوٹ پبلشرز کو بغیراجازت کتابیں چھاپنے کی اجازت نہیں ہوگی، صرف این او سی حاصل کرنے والے پبلشرز کتابیں چھاپ سکیں گے۔

پبلشرز کو کتابیں چھاپنے کے لئے پی سی ٹی بی سے این او سی لینا لازمی ہوگا۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ پبلشرز کو این او سی جاری کرے گا۔

پرائیویٹ پبلشرز پی سی ٹی بی کی جاری کردہ ہدایت کے مطابق کتابیں پبلش کر سکیں گے، قواعد و ضوابط سے ہٹ کر پبلشرز کو کتابیں چھاپنے کی اجازت نہیں ہوگی،صرف پی سی ٹی بی کے جاری کردہ رولز کے مطابق کتابیں پرنٹ کرنا ہوں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں