The news is by your side.

Advertisement

اپنے کپڑوں پر کیچڑ ڈالنا خاتون رپورٹر کو مہنگا پڑگیا

برلن : سیلاب کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کپڑوں اور چہرے پر کیچڑ ملنا خاتون رپورٹر کو مہنگا پڑگیا، ادارے نے خاتون صحافی کو نوکری سے معطل کردیا۔

یورپی ملک جرمنی بھی ان دنوں شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، جرمنی کے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے شہر مؤنسٹر آئیفل میں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے جہاں دیگر رضاکاروں کے ساتھ خاتون رپورٹر سوزانا اوہلین بھی شامل تھیں۔

جرمنی کے پرائیوٹ ٹیلی وژن نیٹ ورک آر ٹی ایل گروپ سے منسلک خاتون رپورٹر اپنے کپڑوں پر کیچڑ ڈال کر سیلاب سے شدید متاثرہ علاقے سے رپورٹ کر رہی تھیں تاکہ زمینی حقیقت کی سنگینی کو بیان کیا جا سکے تاہم اب انہوں نے اپنی غلطی پر معافی مانگ لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں وہ بطور رضاکار امدادی سرگرمیوں میں شریک رہی تھیں اور یہ رپورٹ پیش کرتے وقت بقیہ امدادی کارکنوں کے سامنے صاف کپڑے پہننے پر انہیں احساسِ ندامت لاحق ہو گیا تھا۔

اوہلین کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ احساسِ ندامت کے تحت ہوا اور انہوں نے اپنے کپڑوں پر کیچڑ ڈال کر رپورٹ پیش کی، انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ان کے چہرے پر بھی مٹی لگی دیکھی جا سکتی ہے۔

خاتون رپورٹر کی ویڈیو ایک نامعلوم شخص نے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ وہ کچرے اور ملبے میں کھڑی ہیں اور پھر چلتے ہوئے کیچڑ کے پاس پہنچ کر جھکتی ہیں اور گیلی مٹی اپنے کپڑوں پر ڈالتی ہیں، سوزانا اوہلین ایسا کرنے کی بظاہر کوئی مناسب وجہ بیان کرنے سے بھی قاصر رہی ہیں۔

خاتون رپورٹر کی حرکت کو ٹی وی چینل نے سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹر کا اقدام صحافیانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھا اسی لیے رپورٹر اور کمپیئر سوزانا اوہلین کو فی الوقت معطل کر دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں