The news is by your side.

Advertisement

مزاحمت کرنے والے بچوں کو کنویں میں الٹا لٹکا دیا جاتا تھا، اقرار الحسن

قصور: اے آروائی نیوز نےایک بار پھر صحافتی ذمہ داری نبھائی، اے آر وائی نے دہشت کی علامت حویلی کھوج نکالی، جہاں معصوم بچوں کے ساتھ انسانیت سوز کام ہوتا تھا۔

قصورکی کرموں حویلی دہشت کی علامت بن گئی، جہاں قصور کے بے قصور بچوں کو سالوں تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، اے آر وائی نے قصور اسیکنڈل کے سب راز کھول دیئے، اےآروائی کی ٹیم سب سے پہلے کرموں والی حویلی پہنچی، جہاں سے گزرنے والا ہر بچہ ظلم کا نشانہ بنا۔

کرموں والی حویلی جہاں ہولناک اور دل دہلا دینے والے انکشافات ہوئے، علاقہ مکینوں کے مطابق گاؤں کا ہر گھر اس حویلی میں ہونے والے مظالم کا شکار ہے، کوئی بھی ایسا نہیں جس کےساتھ ایسا نہ ہوا ہو۔

معصوم بچے اپنے بچپن کی قتل گاہ تک خود لے آئے اور اے آر وائی کو دکھائی وہ جگہ جہاں زیادتی ہوتی رہی، ظالم گن پوائنٹ پر بچوں کو دھمکاتے اور کہتے تھے کہ تم سب کے خاندان تک کو کاٹ ڈالیں گے، بچے کئی سال تک بلیک میل ہوتے رہے اور اپنے گھروں سے سونا اور پیسے چوری کرکے ویڈیو بنانے والوں کو دیتے رہے۔

حویلی میں ایک کنواں بھی نظر آیا جہاں سفاک لوگوں کی بات نہ ماننے والے بچوں کو لٹکایا جاتا تھا  پھر وہ کمرہ بھی نظر آیا جہاں گاؤں کی تاریخ کا بدترین واقعہ پیش آیا، کمرے میں جگہ جگہ بکھری دوائیں،گولیوں کے خول اور انجیکشنز بچوں پر ہونے والے ظلم کی گواہی دے رہے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں