The news is by your side.

Advertisement

قطر : کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافے سمیت بڑی سہولت کا اعلان

دوحہ : خلیجی عرب ریاست قطر نے اپنے ہاں لیبر قوانین میں جامع اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے، ملک میں کارکنوں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ پچیس فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار ریال کر دی گئی اور نوکری بدلنے پر پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔

قطری حکومت کے گزشتہ روز کیے گئے ایک اعلان کے مطابق ملک ميں کسی بھی کارکن کی کم از کم ماہانہ تنخواہ اب ایک چوتھائی کے اضافے کے بعد ایک ہزار ریال (275 امریکی ڈالر کے برابر) کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی اب وہاں کام کرنے والے کارکن اس بات کے پابند بھی نہیں ہوں گے کہ اپنا روزگار بدلنے سے پہلے اپنے موجودہ آجر سے قانونی اجازت حاصل کریں۔

دوحہ حکومت کے اس اقدام اور روزگار کے شعبے میں ان اصلاحات سے وہاں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی کارکنوں اور تارکین وطن کو فائدہ ہو گا کیونکہ عموماﹰ کم از کم قانونی اجرتوں والی ملازمتیں ایسے مہمان مرد اور خواتین کارکن ہی کرتے ہیں۔

خلیج کی اس عرب ریاست کو 2022ء میں فٹ بال کے عالمی کپ مقابلوں کی میزبانی بھی کرنا ہے اور انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کے لے سرگرم کئی بین الاقوامی اداروں کی طرف سے ماضی میں قطر کی حکومت پر یہ الزام بھی لگائے جاتے رہے ہیں کہ خلیج کی اس امارت میں کارکنوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔

دوحہ حکومت نے اب جن لیبر اصلاحات کا اعلان کیا ہے، ان کا مقصد ایسے الزامات کا تدارک بھی ہے۔ قطری وزارت محنت کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئی کم از کم ماہانہ اجرت کا قانون ملک میں تمام کارکنوں پر لاگو ہو گا اور اس کے اطلاق میں کسی بھی مقامی یا غیر ملکی کارکن کے ساتھ کسی بھی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔

نئی اصلاحات کے تحت قطر میں تمام آجر اداروں کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے جملہ کارکنوں کو رہائش اور خوراک کی سہولیات بھی فراہم کریں یا پھر انہیں ان سہولیات کے لیے نقد رقم کے طور پر ماہانہ 800 قطری ریال کی اضافی رقم بھی دی جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے محنت آئی ایل او نے دوحہ حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اصلاحات کے ساتھ قطر خلیج کی وہ پہلی ریاست بن گیا ہے ، جس نے اپنے ہاں کسی بھی امتیاز کے بغیر ہر کسی کے لیے یکساں کم از کم ماہانہ اجرت کا قانون متعارف کرایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں