The news is by your side.

Advertisement

"گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را”

ایک روز ایک ملاقاتی آیا جس کا نام عبداللہ تھا۔ آتے ہی اس نے زور سے السلامُ علیکم کہا اور بولا کسی نے بتایا کہ آپ بھی جمّوں کے رہنے والے ہیں۔ میرا بھی وہاں بسیرا تھا، بس یونہی جی چاہا کہ اپنے شہر والے کے درشن کر آؤں اور کوئی کام نہیں۔

میں نے اسے تپاک سے بٹھایا اور کرید کرید کر اس کا حال پوچھتا رہا، جسے سن کر میں سَر سے پاؤں تک لرز گیا۔ جمّوں میں عبداللہ کی کوئی دکان تو نہیں تھی لیکن وہ اپنے گھر پر ہی رنگریزی کا کام کرکے گزر اوقات کیا کرتا تھا۔ بیوی تین بیٹیوں کو چھوڑ کر فوت ہو گئی تھی۔

اکتوبر 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی ذاتی نگرانی میں جمّوں کے مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کا پروگرام بنایا تو مسلمان خاندانوں کو پولیس لائن میں جمع کر کے اس بہانے بسوں اور ٹرکوں میں سوار کرا دیا جاتا تھا کہ انہیں پاکستان میں سیالکوٹ کے بارڈر تک پہنچا دیا جائے گا۔ راستے میں راشٹریہ سیوک سنگ کے ڈوگرہ اور سکھ درندے بسوں کو روک لیتے تھے، جوان لڑکیوں کو اغوا کرلیا جاتا، جوان مردوں کو چن چن کر تہِ تیغ کر دیا جاتا اور بچے کھچے بچوں اور بوڑھوں کو پاکستان روانہ کردیا جاتا۔

جب یہ خبریں جموں شہر میں پھیلنا شروع ہوئیں تو عبداللہ پریشان ہو کر پاگل سا ہو گیا۔ اس کی زہرہ، عطیہ اور رشیدہ پر بھی جوانی کے تازہ تازہ پھول کھل رہے تھے۔ عبداللہ کو یقین تھا کہ اگر وہ ان کو ساتھ لے کر کسی قافلے میں روانہ ہوا تو راستے میں اس کی تینوں بیٹیاں درندہ صفت ڈوگرہ جتھوں کے ہتھے چڑھ جائیں گی۔ اپنے جگر گوشوں کو اس افتاد سے بچانے کے لیے عبداللہ نے اپنے دل میں پختہ منصوبہ تیار کر لیا۔ نہا دھو کر مسجد میں کچھ نفل پڑھے۔ قصاب کی دکان سے ایک تیز دھار چھری مانگ لایا اور گھر آکر تینوں بیٹیوں کو عصمت کی حفاظت اور سنتِ ابراہیمی کے فضائل پر بڑا مؤقر وعظ دیا۔ زہرہ اور عطیہ کم عمر تھیں اور گڑیا گڑیا کھیلنے کی حد سے آگے نہ بڑھی تھیں۔ وہ دونوں اپنے باپ کی باتوں میں آگئیں۔ دلہنوں کی طرح سج دھج کر انہوں نے دو دو نفل پڑھے اور پھر ہنسی خوشی دروازے کی دہلیز پر سر ٹکا کر لیٹ گئیں۔ عبداللہ نے آنکھیں بند کیے بغیر اپنی چھری چلائی اور باری باری دونوں کا سر تن سے جدا کر دیا۔

چنانچہ دہلیز پر زہرہ اور عطیہ کی گردنیں کٹی پڑی تھیں۔ کچے فرش پر گرم گرم خون کی دھاریں بہہ بہہ کر بیل بوٹے کاڑھ رہی تھیں۔ کمرے کی فضا میں بھی ایک سوندھی سوندھی سی خوشبو رچی ہوئی تھی اور اب عبداللہ اپنے ہاتھ میں خون آشام چھری تھامے رشیدہ کو بلا رہا تھا لیکن رشیدہ اس کے قدموں میں گری کپکپا رہی تھی، تھر تھرا رہی تھی، گڑگڑا رہی تھی۔ اگر وہ پڑھی لکھی ہوتی تو بڑی آسانی ے اپنے باپ کو للکار سکتی تھی کہ میں کوئی پیغمبر زادی نہیں ہوں اور نہ تم کوئی پیغمبر ہو، کیونکہ ہمارا دین تو صدیوں پہلے کامل ہو چکا ہے، پھر تمہیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ مخواہ میری گردن کاٹ کر ادھوری سنتیں پوری کرو، لیکن رشیدہ انجان تھی، کم عقل تھی اور فصاحت و بلاغت کی ایسی تشبیہات اور تلمیحات استعمال کرنے سے قاصر تھی۔ وہ محض عبداللہ کے قدموں پر سر رکھے بلک بلک کر رو رہی تھی۔ ابّا۔۔۔ابّا۔۔۔ آپا۔۔۔۔آپا۔۔۔۔رشید کی گڑگڑاہٹ پر عبداللہ کے پاؤں بھی ڈگمگا گئے۔ اس نے چھری ہاتھ سے پھینک دی، بہروپیوں کی طرح اس نے رشیدہ کو ایک بدصورت سی بڑھیا میں ڈھال دیا اور کلمہ کا ورد کرتے ہوئے اسے ساتھ لے کر ٹرک میں بیٹھ گیا۔ جب ٹرک والے نے قافلے کو سوچیت گڑھ اتارا اور وہ لوہے کا پھاٹک عبور کر کے پاکستان میں داخل ہو گئے تو یکایک عبداللہ کو زہرہ اور عطیہ کی یاد آئی جن کے سر جموں میں دروازے کی دہلیز پر کٹے ہوئے پڑے تھے اور جو پھٹی پھٹی منجمد آنکھوں سے چھت کی طرف دیکھتے دیکھتے دم توڑ گئی تھیں۔ وہ کمر تھام کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا اور رشیدہ کو گلے سے لگائے دیر تک دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔

سیالکوٹ کے مہاجر کیمپ میں آکر رفتہ رفتہ رشیدہ کی زلفیں پھر لہرانے لگیں۔ اس کی سرمگیں آنکھوں میں پھر وہی پرانی چمک جگمگانے لگی، لیکن ہولے ہولے عبداللہ نے محسوس کیا کہ اس چمک میں جو شبنم کی سی تازگی اور ستاروں کی سی پاکیزگی جھلکا کرتی تھی وہ ماند پڑ رہی ہے اور ایک دن اس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ناموس ملّت کے جن انمول آبگینوں کو وہ ڈوگروں اور سکھوں کے نرغے سے بچا لایا تھا وہ خدا کی مملکت میں سرِ بازار بک رہے ہیں، آدھی آدھی رات گئے جب رشیدہ واپس آتی تو اس کا دامن پھلوں مٹھائیوں رنگ برنگ کپڑوں پاؤڈر اور کریم وغیرہ کے خوبصورت پیکٹوں سے بھرا ہوتا تھا۔

عبداللہ غضب ناک ہو کر اسے مارتا پیٹتا اور رشیدہ کو پچھاڑ کر اس کا گلا گھونٹنے لگتا، جب رشیدہ کا سانس اکھڑنے لگتا اور اس کی آنکھیں باہر نکلنے لگتیں تو اچانک اسے جمّوں کی وہ خون آلود دہلیز یاد آجاتی جس پر وہ زہرہ اور عطیہ کی بے نور آنکھوں کو چھت کی طرف گھورتے چھوڑ آیا تھا۔ عبداللہ کے ہاتھ رعشہ کھا کر لرز اٹھتے، اس کا سَر لٹو کی طرح اس کی گردن پر گھومنے لگتا اور وہ رشیدہ کو چھوڑ کر کیمپ کے دوسرے کنارے پر بیٹھا ساری رات روتا رہتا۔ ایک روز رشیدہ نے ترس کھا کر خود ہی اپنے باپ کو روز روز کی اذیت سے نجات دے دی۔ اس نے کیمپ چھوڑ دیا اور راتوں رات کسی کے ساتھ فرار ہو کر نجانے کہاں غائب ہو گئی۔

(قدرت اللہ شہاب کی کتاب ‘شہاب نامہ’ سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں