The news is by your side.

Advertisement

نام ور ادیب قدرت اللہ شہاب کی برسی

آج اردو کے نام ور ادیب قدرت اللہ شہاب کی برسی منائی جارہی ہے۔ ان کا انتقال 24 جولائی 1986 کو ہوا تھا۔

قدرت اللہ شہاب ایک مشہور سول سرونٹ تھے جن کا تعلق گلگت سے تھا جہاں وہ 1917 میں پیدا ہوئے۔ 1941 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا اور انڈین سول سروس میں شامل ہوگئے۔ اس سروس کے دوران انھیں بہار، اڑیسہ اور بنگال میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

قیامِ پاکستان کے بعد قدرت اللہ شہاب نے متعدد اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں سیکریٹری جنرل، وفاقی سیکریٹری وزارتِ اطلاعات، ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر اور منتخب سیاست دانوں اور وفاقی عہدے داروں کے پرائیویٹ سیکریٹری رہے۔ بعد میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے اور فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کیا۔

اردو زبان اور ادب کے لیے جہاں انھوں‌ نے اپنے قلم کا سہارا لیا اور تخلیقی کام کیا، وہیں قدرت اللہ شہاب کا ایک اہم کارنامہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل تھا۔

ان کی مشہور تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور سرخ فیتہ کے علاوہ ان کی خودنوشت سوانح عمری شہاب نامہ شامل ہے۔ شہاب نامہ کو جہاں‌ قارئین نے بہت پسند کیا، وہیں‌ اس میں‌ شامل متعدد ابواب پر اعتراضات اور تنقید بھی کی گئی۔

شہاب نامہ ایک خود نوشت سوانح حیات ہے جس میں مسلمانانِ برصغیر اور تحریکِ آزادی سے لے کر قیامِ پاکستان اور دیگر تاریخی واقعات کو نہایت دل چسپ انداز میں لکھا گیا ہے۔ روحانی شخصیات کا ذکر اور پراسرار واقعات کا بیان قاری کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے آج بھی نہایت شوق اور دل چسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

قدرت اللہ شہاب اسلام آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں