The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ دھماکہ: ملک بھر کی فضا سوگوار، تجارتی مراکز بند، عدالتوں کا بائیکاٹ

کوئٹہ بم دھماکے نے ملک بھر کی فضا سوگوار کر دی۔ ملک بھر کی وکلا برادری پر زور مذمت کرتے ہوئے آج سوگ منا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے بھی 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ کے سرکاری و تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں کل صبح سول اسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد ملک بھر کی وکلا برادری سوگ مناتے ہوئے ہڑتال پر ہے۔ پاکستان بار کونسل نے 3 روز تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار آج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ بار نے سانحہ کوئٹہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک ہفتہ کے سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ کراچی بار اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار میں بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

سندھ بار کونسل کی اپیل پر بے نظیر آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے بھی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اور اس کی تمام ماتحت عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جس کے با‏عث عدالتی پہیہ جام ہوچکا ہے۔

کوئٹہ: سول اسپتال میں دھماکہ، 70 افراد جاں بحق *

عدالتوں کے بائیکاٹ کے باعث قیدیوں کے ورثا شدید پریشانی کے عالم میں مختلف عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب تاجر تنظیموں نے بھی وکلا برادری سے اتحاد کے طور پر آج کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں آج سرکاری و کاروباری مراکز اور بلوچستان یونیورسٹی بند جبکہ کاروبار زندگی معطل اور سڑکیں سنسان ہیں۔

کوئٹہ دھماکے میں ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے حفیظ اللہ مندوخیل ایڈوکیٹ اور قیصر خان ایڈوکیٹ بھی جاں بحق ہوگئے جن کی نماز جنازہ کل ژوب میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر سانحہ کے خلاف آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی اور تمام کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات *

کوئٹہ سانحہ کے خلاف مختلف سیاسی تنطیموں نے بھی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ ایم کیو ایم نے بھی ایک ہفتے کے سوگ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ دھماکے میں 2 صحافی بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے جس کے خلاف صحافی برادری سراپا احتجاج ہے۔ صحافیوں نے سانحہ کوئٹہ پر قومی اسمبلی کا علامتی واک آؤٹ کیا تو چوہدری برجیس طاہر اور وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی صحافیوں کو منانے پہنچ گئے۔ عرفان صدیقی نے صحافیوں کی شکایات اور سفارشات وزیر اعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کروائی۔

سانحہ کے خلاف کراچی پریس کلب اور لاہور پریس کلب کے باہر صحافی برادری نے احتجاج کیا اور حکومت سے صحافیوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ملک کے کئی دیگر شہروں میں بھی صحافی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ فیصل آباد میں صحافیوں نے شہدا سے یکجہتی کے لیے ضلع کونسل چوک میں شمعیں روشن کیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں