کوئٹہ لٹریچر فیسٹیول - حبس کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا -
The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ لٹریچر فیسٹیول – حبس کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا

مفصل رپورٹ

بلوچستان نا صرف رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ تیل، گیس اور دیگر متعدد قیمتی معد نیات کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ اس کے باوجود مجموعی ملکی تعمیر و ترقی میں اس صو بے کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کراچی ، لاہور، پشا ور، ملتان اور اسلام آباد کی نسبت زندگی کے ہر شعبے میں بہت پیچھے ہے۔ رہی سہی کسر سالہا سال سے جاری امن و امان کی بدترین صورتحال ، ٹارگٹ کلنگ اور آئے روز کے خودکش دھماکوں نے پوری کردی ہے۔ جب سے صنوبر اور چیڑ کی مخصوص مہک کی جگہ بارود کی بو نے لی ہے ، یہاں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں بھی ماند پڑ چکی ہیں ۔ تفریح کی کمی کے باعث ناصرف کوئٹہ کے شہری شدید ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا شکار ہیں بلکہ یہاں کی نئی نسل بھی ادب، فنون اور کلچر میں ملکی سطح پر ہونے والی سر گرمیوں سے آگاہ نہیں ہیں اور نا ہی مقامی ٹیلنٹ کو کھل کر سامنے آنے کے موقع مل رہے ہیں۔

برسوں سے چھائی گھٹن ، تناؤ اور کشیدگی کی اس فضا کو بلوچستان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور گورنمنٹ آف بلو چستان کے تعاون سے ’امید ِنو‘ کے بینر تلے دو روزہ کوئٹہ لٹریری فیسٹیول کے ذریعے توڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ادبی میلہ 7اور 8 مئی کو بی یو آئی ٹی ایم ایس کے کیمپس میں منعقد کیا گیا جس میں کراچی ، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی سے نامور ادیبوں ، شاعروں ، صحافی ، فنون لطیفہ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے مکمل جوش و خروش سے شرکت کر کے اپنے ہم وطنوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کے سفیر ہیں اور چند روز قبل ہونے والی ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ بھی انھیں اس پسماندہ صوبے کی ایک اہم تقریب میں شرکت سے ہر گز نہیں روک سکی۔

ابتدائیہ میں وائس چانسلر یونیورسٹی انجینئر فاروق احمد بازئی نے فیسٹیول کے انعقاد کے بنیادی مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے صوبے میں ادبی، ثقافتی اور دیگر مثبت سرگرمیوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔جس سے ناصرف انھیں اپنے کلچر اور معاشرتی اقدار کو بھرپور طریقے سے سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ ملک بھر سے ادیب، صحافی اور فنون ِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت سے وہ بہت کچھ سیکھ بھی سکیں گے ۔ امید نو کے نام سے بلوچستان کا پہلا لٹریری فیسٹیول معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے با صلا حیت افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنےاور مقامی ٹیلنٹ کو ملکی سطح پر متعارف کروانے کی ایک کوشش ہے جو یقینا بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی اور مستقبل قریب میں بلوچستان بھی ا دبی تقریبات کا محور ہوگا۔

اگرچہ پہلے روز ادبی میلے میں مقامی افراد کی بہت کم تعداد موجود تھی اور زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبا ء طالبات ہی چھائے رہے، مگر دوسرے روز شہر سے کافی دور ہونے کے باوجود کافی تعداد میں لوگوں نے اس ادبی میلے میں ہونے والی مختلف سرگرمیوں میں بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ پہلے روز یونیورسٹی کے مختلف ہالز میں پینل ڈسکشنز اور ٹاک سیشنز کا اہتمام کیا گیا تھا جن میں سے ایک کا موضوع ’آئیڈیا پراکیسز ا ور پالیٹکس‘ تھا جس میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کےعاصم سجاد اور معروف ماہر ِ اقتصادیات قیصر بنگل زئی نے حصہ لیا اور گزرتے وقت کے ساتھ انسانی زندگی میں آنے والے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے ساتھ گرتی ہوئے اخلاقی اقدار پر سیر ِ حاصل گفتگو کی۔

Quetta Literature Festival  ایک اور پینل ڈسکشن کا عنوان ’ڈیجیٹل رپورٹنگ اور گرتا ہوا صحافتی معیار‘ تھا جس میں نامور صحافی مبشر زیدی ، عبداللہ جان با زئی ، امجد اسلام امجد اور وسعت اللہ نے حصہ لیا اور مین سٹریم میڈیا پر چھائے ہوئے گنتی کے میڈیا ہاؤسز اور ان کے صحافیوں پر کھل کر تنقید کی جن کا اصل مقصد اپنی پسندیدہ سیا سی پارٹی کی پبلک ریلشننگ کے سوا اور کچھ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صلاحیت اور قابلیت ہونے کے باوجود بلوچستان کے صحافی مین سٹریم میڈیا میں اب تک کوئی خاطر خواہ جگہ نہیں بنا پائے۔ پہلے روز کے تیسرے ڈسکشن سیشن میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی پروفیسر ندا کرمانی اور معروف سماجی کارکن زبیدہ جلال نے خواتین کو درپیش مسائل ، جنسی ہراسانی اور بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا اور بلوچستان کی عورت کو یہ پیغام دیا کہ اسے خا موشی کے قفل توڑ کر آواز اٹھانی ہوگی۔ اس سیشن میں ہزارہ برادری میں ٹارگٹ کلنگ سے مارے جانے والے بے گناہ افراد کے لیے سینٹر آف پیس اینڈ ایجوکیشن کی نسرین اقبال نے موم بتیاں بھی روشن کیں۔

ادبی میلے کے دوسرے روز کوئٹہ کے شہریوں کی بڑی تعداد میں پینل ڈسکشنز اور ٹاک سیشن میں شرکت کی جس کی ایک بڑی وجہ وہ مقامی مسائل تھے جو ان میں تفصیل سے زیر بحث آئے۔ان میں بلوچستان میں جاری تعمیر و ترقی کے منصو بے، ادب و فنون میں تفاوت اور موافقت ، ہسٹری اینڈ میڈ نیس ، ناول، شاعری اور فلسفہ ، بلوچستان میں شارٹ فلم میکنگ کا مستقبل اور امیدیں ،بلوچستان کلچر اینڈ کرییٹویٹی قابل ذکر ہیں ۔ ان سیشنز میں ڈاکٹر برکت شاہ، پرو فیسر ندا کرمانی ، اداکار و ہدایت کار جمال شاہ، زیبا بختیار، ایوب کھوسو، فاروق مینگل ، حافظ جمالی، حمیرا صدف، نیلم آفریدی قیصر بنگالی ہما عدنان اور کئی نامور شخصیات نے بھرپور حصہ لیا اور تمام موضوعات پر کھل کر اظہار ِ خیال کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مکمل امن و امان کی صورتحال میں اس طرح کے حساس موضوعات صوبائی دارلحکومت میں زیر ِ بحث آئے جنھیں یہاں عموما شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔

Quetta Literature Festival

فیسٹیول میں شرکت کرنے والے افراد خصوصا نوجوانوں کی توجہ کا مرکز شارٹ فلم سکریننگ تھا جس میں پہلے روز یونیورسٹی کے طلبا ء و طالبات کی اپنی تیار کردہ شارٹ فلمز بھی دکھائی گئیں جن میں ‘امن کے رنگ’ ، اڑان ، گوادر، اور مسکارا قابلِ ذکر ہیں ، جبکہ دوسرے روز شارٹ فلم سکریننگ میں سپرنگ ان دی بیرن لینڈ اور بلوچستان کے نوجوان کھاریوں کے حوالے سے فلم دکھائی گئیں ۔ اگرچہ طلبا نے اپنی سی پوری کوشش کی تھی مگر بنیادی آئیڈیاز میں نا پختگی اور ڈائریکشن میں نا تجربہ کاری بہت وا ضح تھی اور ان فلمز میں سے شاید ہی کوئی ملکی سطح پر توجہ حاصل کر پائے مگر امید کی جاتی ہے کہ شارٹ فلمز پر منعقد کی جانے والی دوسرے دن کی پینل ڈسکشن سے ان طلبا نے بہت کچھ سیکھا ہوگا اور اگلے برس حاضرین کو کچھ بہت اچھے آئیڈیاز ، عمدہ ڈائریکشن کے ساتھ دیکھنے کو ملیں گے۔ فیسٹیول کے دونوں روز بچوں کے لیے بھی تفریح کے خصوصی انتظامات کیئے گئے تھے اور کنگ فو پانڈا، پودنا اور پودنی ایند جین چیٹ دکھائی گئیں اگرچہ یہاں بچوں کی تعدادانتہائی کم تھی۔

ادی میلے کا سب سے اہم پارٹ کتب میلہ تھا جو ہر کسی کی توجہ کا مرکز تھا کیونکہ وسائل نہ ہونے کے باعث کوئٹہ میں اچھی کتابیں دستیاب نہیں ہیں جو دوسرے شہروں سے منگوانا ایک دردسر ہے۔ یہاں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سمیت تقریبا ََ چالیس کے قریب نامور پبلشرز اور پبلی کیشن ہاؤسز کے سٹال موجود تھے جہاں ذیادہ تر درسی ، سائنس، انجینئرنگ ، فزکس، کیمسٹری ، بائیولوجی ، ریاضی ، کمپیوٹرز اور آئی ٹی کی کتب دستیاب تھیں۔

Quetta Literature Festival

یہی وجہ تھی کہ میلے کے اس حصے میں طلبا ء و طالبات کا خاصہ رش دیکھنے کو ملا مگر اعلیٰ ادب کا ذوق رکھنے والے افراد کے لیے یہ کتب میلہ بہت پھیکا سا تھا ۔ صرف چند سٹال پر انگریزی ادب کی کتب موجود تھیں جو کافی پرانی تھیں جبکہ کلاسک اردو ادب کی ایک بھی کتاب دستیاب نہیں تھی ۔ امید کی جاتی ہے کہ اگلے برس ادبی ذوق رکھنے والے افراد کی دلچسپی کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے، نامور ادبا ء و شعراء کے اردو ناولز، افسانہ، سفر نامہ اور شاعری کی کتابیں بھی اس میلے میں رکھی جائیں گی۔ اور قیمتیں بھی مناسب ہونگی جو اس کے دفعہ کافی زیادہ رکھی گئی تھیں ، یہاں تک کے ابتدائی فلکیات کی چند کتب کی قیمتیں ڈھائی سے تین ہزار کے درمیان تھیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں ۔

Quetta Literature Festival

فیسٹیول کا ایک اور اہم حصہ فوڈ شاپس تھیں جہان عمدہ اشیائے خوردو نوش دستیاب تھیں مگر ان کی قیمت بھی کافی زیادہ رکھی گئی تھی۔ شہر سے دور ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہونے کے باعث یہاں آنے والے افراد کو ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا اور یہی وجہ تھی کہ دلچسپی ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں کوئٹہ کے شہری اس میں شرکت نہیں کر پائے، اس کے علاوہ ایونٹ کی پہلے سے زیادہ پریس ، میڈیا اور سوشل میڈیا کوریج بھی نہیں کی گئی تھی لہذا فوری طور پر اتنی دور کا انتظام کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ امید کی جاتی ہے کہ اگلے برس ادبی میلے میں ان مسائل کو کور کرنے کی کوشش کی جائیگی تاکہ کوئٹہ کے شہری اس طرح کی صحت مندانہ سرگرمیوں سے بھرپور لطف اٹھا سکیں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبا ء طالبات بھی اس میں بھرپور شرکت کریں ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں