کوئٹہ: پولیس کا نہتے معذور مظاہرین پر بہیمانہ تشدد -
The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ: پولیس کا نہتے معذور مظاہرین پر بہیمانہ تشدد

کوئٹہ: پولیس نے بے حسی کی حد کردی، احتجاج کرنے والے معذور افراد کو منتشر کرنے کے لیے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر معذور افراد کو گھسیٹا اور تشدد کیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں بے روزگار معذورافراد نے غربت اور تنگ دستی سے تنگ آکر انتظامیہ کے خلاف دھرنا دیا، ریڈ زون سے ملحق ہاکی چوک پرمعذور افراد نے ٹائر جلائے اور نعرے بازی کرتے ہوئے کوٹے کے مطابق ملازمتیں‘ خصوصی گرانٹ اور ٹرائی موٹرسائیکلوں کی فراہمی کا مطالبہ کررہے تھے

اس دوران احتساب عدالت کے جج کی گاڑی وہاں پہنچی تو مظاہرین نے انہیں بھی جانے نہ دیا اور گاڑی کے سامنے لیٹ گئے، جج نے گاڑی سے اتر کر پولیس کو راستہ کھولنے کا کہا جس پر پولیس نے مظاہرین پر تشدد کرکے گاڑی کے سامنے لیٹنے والے شخص کو گھسیٹ کر دور کردیا۔

اس موقع پر کوئٹہ پولیس نے بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے مظاہرین پر ڈنڈے اور لاٹھیاں برسا دیں، مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے کوئٹہ پولیس معذورافراد پر ٹوٹ پڑی، کسی کو گھیسٹا اور کسی کو مارا۔

پولیس کے رویے کے خلاف معذور افراد نے شدید احتجاج بھی کیا، احتجاجی دھرنے کے باعث زرغون روڈ ، پرنس روڈ بلاک ہونے سے وسط شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

معذور افراد کے دھرنے کے دوران راستہ نہ دینے پر شہریوں اور مظاہرین کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو بھی مظاہرین نے زدوکوب کیا، دھرنے کے باعث شہر کے وسطی علاقوں میں ٹریفک شدید جام رہا جس سے شہری اور خصوصاً طلباءو طالبات کو مشکلات سامنا کرنا پڑا.

پانچ گھنٹے طویل دھرنا دینے کے بعد معذور افراد نے ڈپٹی کمشنر عبدالواحد کاکڑ کی جانب سے مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں