The news is by your side.

Advertisement

ریڈیو نے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا ساتھ کیسے دیا؟

سوشل میڈیا اور دیگر ذرایع ابلاغ کی برق رفتاری، ان کی پہنچ اور ہر ایک تک رسائی سے انکار نہیں۔ اس میں بھی کسے کلام ہے کہ چند دہائیوں‌ پہلے تک یہ ہر عمر اور طبقے میں مقبول تھا، آج ریڈیو کے سامعین کم ہیں، لیکن یہ قابلِ توجہ اور اہم میڈیم ہے۔

موجودہ دور میں ریڈیو نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے خود کو سماج کے بدلتے ہوئے رجحانات اور معاشرتی تقاضوں سے مزین کیا اور اب درجنوں ریڈیو چینل سامعین کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔

ڈش انٹینا کے بعد جب ہم انٹرنیٹ اور اسمارٹ ڈیوائسز کے عادی ہوئے تو یہ کہا جانے لگا کہ ریڈیو فریکوئنسی یعنی یہ میڈیم ماضی بن جائے گا، لیکن ہُوا کچھ اور۔ آج ریڈیو کی جدید شکل ہمارے لیے تفریح و معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ریڈیو کیسے بدلا؟

ابتدائی زمانہ وہ تھا جب ریڈیو ٹرانسسٹر پر سنا جاتا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی کی وہ شکل تھی جس میں مائیکرو فون کے ذریعے آوازیں ریکارڈ کی جاتی تھیں جو برقی اشاروں میں تبدیل ہو کر مخصوص سرکٹ میں سفر کرتی ہوئی اسپیکر تک پہنچتی تھیں۔

اس کے بعد ریڈیو نے میڈیم ویوو کی طرف قدم بڑھائے جو دراصل میڈیم فریکوئنسی کا حصّہ تھا۔

براڈ کاسٹ ٹیکنالوجی کی ایک اور شکل شارٹ ویوو تھی جس کے ذریعے کسی بھی قسم کی آواز اور موسیقی کو دور تک سنا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ریڈیو کی نشریات نہ صرف مختلف ممالک کے دور دراز علاقوں تک سنی جاتی رہیں بلکہ بعض برّاعظموں کے طول و عرض میں بسے سامعین بھی ریڈیو کی نشریات سے محظوظ ہوئے۔

اور پھر ایف ایم نشریات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد پاکستان میں کئی ریڈیو چینلوں نے نشریات کا آغاز کیا اور جدید رجحانات اور سماجی بدلاؤ کو مدنظر رکھ کر پروگرام ترتیب دیے گئے۔ ریڈیو نے جہاں اپنے سامعین کو حالات و واقعات سے باخبر رکھنے کے ساتھ مختلف روایتی پروگراموں کو اہمیت دی، وہیں مفید، معلوماتی، عام دل چسپی اور تفریحی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جب کہ قومی سطح پر اہم اور یادگار دنوں کی مناسبت سے خصوصی نشریات آج بھی سنی جاتی ہیں اور یوں یہ میڈیم اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ریڈیو پاکستان، چند دہائیوں پہلے!

ریڈیو پاکستان کے مشہور اور یادگار پروگراموں کی بات کی جائے تو صبح بچوں کے لیے ‘‘پھلواری ’’ نشر ہوتا تھا جسے معروف صدا کار مُنی باجی اور رفیق بھیا سجاتے، یہ مقبول ترین سلسلہ تھا۔

اسی طرح‌ بڑے….، بڑے شوق سے سنتے تھے پروگرام ‘‘گھسیٹا خان’’ جب کہ ایک مقبول ترین سلسلہ ‘‘ حامد میاں کے ہاں’’ شام کی نشریات کا حصّہ رہا۔ اسی طرح خواتین کی دل چسپی اور شوق کے مطابق گھر داری اور کچن سے متعلق پروگراموں‌ کے ساتھ کئی معلوماتی پروگرام آج بھی بزرگوں کی یادوں میں محفوظ ہیں۔

ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی کہانیاں، طنز و مزاح پر مبنی سلسلے، دل چسپ مباحث، حالاتِ حاضرہ پر نہایت جامع اور مستند تبصروں کے ساتھ ریڈیائی ڈرامے ہر خاص و عام میں مقبول تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں